حکومت کو آنیوالے دور کے مطابق پالیسیاں بنانا ہو گی

فیصل آباد(سٹاف رپورٹر) سابق وفاقی پارلیمانی سیکرٹری اور سینئر سیاستدان رانازاہد توصیف نے کہا ہے کہ مہنگی بجلی اور مہنگے پٹرول کے باعث ہمیں متبادل ذرائع اختیار کرنا ہونگے۔ کیونکہ دنیا کے دیگر ممالک کی نسبت پاکستان میں بجلی اور پٹرو لیم مصنوعات کے نرخ کہیں زیادہ ہیں۔ بجلی اور پٹرول کی کھپت میں کمی لانے اور ماحول کو آلودگی سے بچا نے کیلئیسولر پینل انرجی اور الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینا ہوگا۔ اور حکومت کو آنے والے دور کے مطابق پالیسیاں بنانا ہوں گی۔ رانا زاہد توصیف نے کہا کہ پاکستان میں بجلی کے مہنگے پیداواری پلانٹس کو معاہدہ کر کے کسی دوسرے ملک کو ایکسپورٹ کر دیا جائے اور عوام میں سولر پینل بجلی کے استعمال بارے آگاہی مہم شروع کی جائے۔ نیز wind والی بجلی کو فروغ دیا جائے۔ اگر ہم متبادل ذرائع استعمال کریں گے تو پورے وثوق سے یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ پاکستان میں 2050 میں بجلی کی کھپت زیرو ہو جائے گی۔ اس کے لیے گاڑیوں کو الیکٹرک پر چلانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگی ترین بجلی کے باعث پیداواری لاگت میں اضافہ کے باعث جہاں مہنگائی میں اضافہ ہوا وہاں چھوٹی بڑی انڈسٹری بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ جبکہ صنعتی، تجارتی اور گھریلو صارفین کے لیے بجلی کے بھاری بلوں کی ادائیگی نہایت مشکل ہو چکی ہے۔ 30 ہزار روپے ماہانہ آمدن والا پاکستانی کیسے 10 ہزار روپے بل ادا کر سکتا ہے۔ چنانچہ حکومت کو سستی بجلی کی پیداوار کے لیے ہنگامی شادیر اقدامات کرنا ہوں گے۔ تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔جبکہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں نہایت کمی کے ثمرات بھی پاکستانی عوام تک پہنچانا ہوں گے۔ سارا بوجھ غریب اور متوسط طبقہ پر ڈالنا کسی طرح بھی مناسب نہیں۔
ا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں