111

حکومت کی مذاکرات کی پیشکش’ پی ٹی آئی کا انکار (اداریہ)

تحریک انصاف کو حکومت کی طرف سے ایک بار پھر مذاکرات کی پیشکش کی گئی ہے تاہم پی ٹی آئی نے انکار کر دیا، چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے کہا حکومت کا مذاکرات کی پیشکش کا انداز سیاسی نہیں’ ہم تو پُرامن احتجاج تک نہیں کر سکتے ہمارے لوگوں کو اُٹھایا جا رہا ہے دوسری جانب ہمیں مذاکرات کی دعوت دی جا رہی ہے، وفاقی وزیر مصدق ملک نے گزشتہ روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آئیں مل کر بیٹھیں بات کریں، ملک دشمن عناصر ترقی میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں، انتشار کی سیاست کرنے والے ملک کے خیرخواہ نہیں،، وفاقی وزیر مصدق ملک نے پی ٹی آئی کو حکومت کی جانب سے مذاکرات کی دعوت دی ہے جس کے جواب میں چیئرمین پی ٹی آئی نے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے ساتھ ناانصافی اور ظلم کیا جا رہا ہے ایسے میں ہم مذاکرات کیسے کریں؟ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور حکومتی ترجمان مصدق ملک اپنے اپنے موقف پر قائم ہیں لہٰذا بات بنتی نظر نہیں آ رہی’ ادھر پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے اور حکومتی اداروں کے خلاف پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے جس پر قابو پانے کیلئے حکومت بھی سرگرم ہے پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا پر اداروں کے خلاف منظم مہم کی تحقیقات کیلئے (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی گئی ہے 5رکنی تحقیقاتی کمیٹی کی وزیراعظم نے منظوری دے دی ہے کمیٹی ریاست کے خلاف سوشل میڈیا مہم چلانے والوں کے خلاف گھیرا تنگ’ وطن دشمنی میں مصروف افراد اور گروہوں کی نشاندہی کرے گی آئی جی اسلام آباد کنوینئر مقرر’ دیگر ارکان میں ایف آئی اے کے ڈائریکٹر ایکسائز سائبر کرائم’ ڈائریکٹر انسداد دہشت گردی’ اسلام آباد پولیس کے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن اور ایس ایس پی کائونٹر ٹیررازم شامل ہیں (جے آئی ٹی) مجرموں کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی کے لیے سفارشات پیش کرے گی،، سوشل میڈیا پر اداروں کے خلاف مہم چلانے والوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کیلئے تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل اچھا اقدام ہے اس سے ان کرداروں پر ہاتھ ڈالا جا سکے گا جو پوشیدہ رہ کر حکومتی اداروں کے خلاف منظم مہم چلا کر انہیں عوام کی نظر میں بے وقعت ثابت کرنا چاہتے ہیں! پی ٹی آئی نے 2014ء سے ملک میں انتشار اور فسطائیت برپا کر رکھی ہے سیاسی معاملات کو پارلیمنٹ کے بجائے عدلیہ میں لا کر ملک سے کھلواڑ کرنے کی مرتکب ہوئی ہے عدلیہ شب وروز تحریک انصاف کے کیسز سننے اور نمٹانے میں اس قدر مصروف ہے کہ عدلیہ کے دوسرے معاملات ثانوی حیثیت اختیار کر چکے ہیں، ملک کی کوئی عدالت ایسی نہیں جہاں تحریک انصاف نے کیسز دائر نہ کر رکھے ہوں، پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم اتنی منظم ہے کہ چند منٹوں میں ہزاروں ورکرز ایک دوسرے سے رابطے میں آ جاتے ہیں جس کا ایک مظاہرہ آٹھ جولائی 2024ء کے الیکشن میں دیکھنے میں آیا جب پی ٹی آئی کے عہدیداروں نے آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لیا سیاسی حلقوں کو ان نمائندوں کی کامیابی کی امید نہیں تھی کیونکہ ان کے پاس پی ٹی آئی کا انتخابی نشان ”بلا” چھین لیا گیا تھا مگر الیکشن کے نتائج نے سیاسی پنڈتوں کو حیران کر دیا کیونکہ پی ٹی آئی سے منسلک امیدواروں کی بڑی تعداد نے (ن) لیگ اور پی پی کے بڑے بڑے نامور سیاستدانوں کو پچھاڑ دیا اور اس کامیابی کے پیچھے بھی سوشل میڈیا ٹیم کا کردار تھا جنہوں نے خاموشی سے اپنی پارٹی کے امیدواروں کی مہم چلائی ان کے انتخابی نشان کی ورکروں کو پہچان کرائی اور پولنگ سٹیشنز پر جا کر ان کی مکمل راہنمائی بھی کی تھی سوشل میڈیا ٹیم نے ملکی اداروں کے خلاف اپنی مہم کو روکنے کے بجائے اس میں مزید اضافہ کر دیا جس کی وجہ سے بہت سی دشواریاں سامنے آ رہی ہیں لہٰذا حکومت سوشل میڈیا پر اداروں کے خلاف منظم مہم چلانے والوں کو روکنے کیلئے متحرک ہے ”فائروال” بھی نصب کی جا رہی ہے جس کا مقصد سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کئے جانیوالے اس مواد کو فلٹر کرنا ہے جس کے تحت اداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے حکومت نے اب سوشل میڈیا پر کنٹرول کرنے اور وطن دشمنی میں مصروف افراد کی نشاندہی کیلئے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی ہے جو مجرموں کا سراغ لگائے گی اور ان کو قوانین کے مطابق سزائیں دلوانے کیلئے سفارشات پیش کرے گی،، حکومت سیاسی استحکام کیلئے پی ٹی آئی کو مذاکرات کی میز پر آنے کی دعوت دے رہی ہے تو پی ٹی آئی کو اس کا مثبت جواب دینا چاہیے اور ملک وقوم کی خاطر سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے حکومت کی دعوت قبول کر لینی چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں