حکومت کی پالیسی کے مطابق صنعتوں کو زیادہ گیس استعمال کرنیکی ترغیب دی جارہی ہے

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر)سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ فیصل آباد کے جنرل منیجر عمر ان صفدر ورک نے کہا کہ حکومت کی پالیسی کے مطابق صنعتوں کو زیادہ گیس استعمال کرنے کی ترغیب دی جارہی ہے جبکہ منظور شدہ لوڈ سے زیادہ گیس استعمال کرنے والوں کو صرف نوٹس دیئے گئے ہیں مگر کوئی بھی کنکشن اس بنیاد پر کاٹا نہیں گیا۔ وہ فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری میں تاجروں اور صنعتکاروں کے ایک اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے گیس کمپنی اور نجی شعبہ کے درمیان رابطوں کو اچھا اور مثبت قدم قرار دیا اور کہا کہ اِن ملاقاتوں میں اٹھائے جانے والے مقامی نوعیت کے مسائل کو فوری طور پر حل کیا جا رہا ہے جبکہ اُن کے دائرہ کارسے باہر مسائل کو ہیڈ آفس تک پہنچایا جا رہا ہے ۔ لوڈ سے زیادہ گیس کے استعمال کے بارے میں جنرل منیجر نے کہا کہ اِن کو نوٹس بھیجے گئے ہوں گے مگر اِن میں سے ایک بھی کنکشن کو گیس کے زیادہ استعمال کی وجہ سے کاٹا نہیں گیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ نئی اور پرانی تمام کالونیوں میں آر ایل این جی کے کنکشن دئیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فاسٹ ٹریک پر گیس کے کنکشن کی سب سے زیادہ درخواستیں فیصل آباد سے ملی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گیس کی لوڈ شیڈنگ یا کم پریشر سے گیس کی فراہمی کی شکایات کے بارے میں اُن کو درخواست دی جائے تاکہ وہ اِن کا فوری ازالہ کر سکیں۔ اس سے قبل فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر فاروق یوسف شیخ نے کہا کہ پیداواری پلاننگ اُس وقت مؤثرنہیں ہو سکتی جب تک طے شدہ پروگرام کے تحت توانائی فراہم نہ کی جائے۔انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ اور ویلیو ایڈڈ صنعتیں ملکی زرمبادلہ کا اہم ذریعہ ہیں، تاہم گیس پالیسی میں اکثر صنعت کو گھریلو صارفین کے مقابلے میں ترجیح نہیں دی جاتی۔اس طرح پاکستان میں گیس کے نرخ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہیںجبکہ کراس سبسڈی کا بوجھ بھی صنعتوں پر ڈالا جا رہا ہے جس سے پیداواری لاگت بڑھتی ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ صنعت کو ترجیحی شعبہ قرار دیا جائے اور بزنس کمیونٹی کی مشاورت سے قابل عمل پالیسیاں تشکیل دی جائیں۔ اسی طرح ایکسپورٹ اور ویلیو ایڈڈ صنعتوں کو ، خاص طور پر برآمدی سیزن میں گیس فراہمی میں ترجیح دی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر RLNG ناگزیر ہو تو ایکسپورٹ انڈسٹری کے لیے خصوصی اور قابلِ برداشت نرخ مقرر کیے جائیں۔مزید برآں گیس بندش، لوڈ مینجمنٹ یا پریشر میں کمی کی صورت میں پیشگی اطلاع دی جائے اور باقاعدہ کوآرڈینیشن میکنزم تشکیل دیا جائے۔انہوںنے کہا کہ محکمہ Limitسے زیادہ گیس استعمال کرنے والوںکونوٹس دے رہا ہے جبکہ زائد گیس کے استعمال پر اضافی بینک یا کیش گارنٹی مانگی جاتی ہے۔ حالانکہ اس وقت محکمہ سوئی گیس نئے کنکشن لگوانے والوں کو 50فیصد رعایت دے رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جو صنعتکار اپنا بل بروقت ادا کر رہے ہیں وہ اگر مقررہ حد سے زیادہ گیس استعمال کرتے ہیں تو اُن سے درگزر کیا جائے کیونکہ نوٹس ملنے کی وجہ سے وہ اپنی پیداوار کم کرنے پرمجبور ہو جاتے ہیں جو دراصل قومی نقصان کے مترادف ہے اور جس کی وجہ سے برآمدات پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ آخر میں سینئر نائب صدر نوید اکرم شیخ نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا جبکہ صدر فاروق یوسف شیخ نے جنرل منیجر سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ عمران صفدر ورک کو چیمبر کی 50سالہ گولڈن جوبلی تقریبات کے حوالے سے خصوصی کالر پن لگائی اور شیلڈ پیش کی۔ اس موقع پر نائب صدر انجینئر عاصم منیر، سابق صدر عاطف منیر شیخ، ایگزیکٹو ممبرز ایوب اسلم منج، عمر فاروق کاہلوں اور زاہد بٹ کے علاوہ سوئی گیس کے دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں