حکومت گندم نہ خریدنے کے فیصلے پر نظر ثانی کرے

کمالیہ(نامہ نگار)معروف زمیندار نے میاں زاہد الرحمن نے کہا ہے کہ کسان پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن کسا ن کو اسکی محنت کا صحیح ثمر نہیں مل رہا جس وہ شدیدی پریشانی میں مبتلا ہے وسطی پنجاب میں اس وقت گندم کی کٹائی کا سیزن شروع ہوچکا ہے 2024 میںحکومت کی طرف گندم کا فی من ریٹ 3900روپے مقرر کیا گیا تھا لیکن حکومت نے گندم کی خرید نہیں کی جس کی وجہ سے ریٹ کم ہوتے ہوتے 2500تک آگیا اس سال بھی حکومت نے گندم نہ خریدنے کا اعلان کیا ہے جس کی وجہ سے مارکیٹ جو ہے 2100روپے تک آچکی ہے اگر ایسی ہی حالت رہی تو گندم کی قیمت 1500روپے فی تک گر سکتی ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں