1

خراٹے صحت کے خطرے کی علامت

لاہور ( بیو رو چیف )خراٹے لینے کی عادت آپ کے آس پاس موجود لوگوں کا جینا حرام تو کرتی ہی ہے لیکن یہ آپ کی اپنی صحت کے لئے بھی انتہائی مضر ثابت ہوسکتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ خراٹے لینا کوئی معمولی مسئلہ نہیں، یہ صحت کے کسی سنگین خطرے کی علامت بھی ہوسکتا ہے۔خراٹے لینا اکثر گہری نیند کی علامت سمجھا جاتا ہے اگرچہ یہ سچ ہے کہ گہری نیند کے دوران ہلکے خراٹے آتے ہیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ تمام خراٹے آرام دہ نیند کی علامت نہیں ہیں۔یہ بات بھی یاد رہے کہ اونچی آواز میں، مسلسل خراٹے اور نیند کے دوران سانس لینے میں رک جانا شدید رکاوٹ سلیپ ایپنیا کی علامت ہو سکتی ہے۔ یہ ایک ایسی حالت ہے جس میں بار بار سانس بند ہوجاتا ہے۔اس صورتحال میں سے آکسیجن کی سطح کم ہوسکتی ہے، دل پر دبا پڑتا ہے اور دل کی بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، آئیے جانتے ہیں کہ اس سے صحت کے دیگر کون سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ہلکی نوعیت کے خراٹے عموما اوپری سانس کی نالی میں معمولی رکاوٹ کے باعث پیدا ہوتے ہیں۔ ہوا کے گزرنے سے حلق کے نرم حصوں میں کمپن پیدا ہوتی ہے جس سے آواز آتی ہے۔ یہ عام طور پر خطرناک نہیں ہوتے، البتہ ساتھ سونے والوں کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتے ہیں۔تحقیقی رپورٹس کے مطابق خراٹے، چاہے پہلے سے کوئی بیماری موجود نہ بھی ہو، دل کے امراض کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔ آکسیجن کی کمی دل کو زیادہ محنت پر مجبور کرتی ہے۔بعض ماہرین کا خیال ہے کہ مسلسل آکسیجن کی کمی خلیوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے، جس سے جسم میں غیر معمولی تبدیلیوں اور سنگین بیماریوں کا امکان بڑھ سکتا ہے۔تحقیقات سے ظاہر ہوا ہے کہ نیند میں سانس رکنے سے جسم میں سوزش بڑھتی ہے، جو ہڈیوں کی مضبوطی متاثر کر سکتی ہے۔ اس سے فریکچر کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے، خاص طور پر خواتین میں۔جب جسم کو مناسب آکسیجن نہیں ملتی تو تنا بڑھتا ہے، جس سے بلڈ پریشر بلند ہو سکتا ہے۔ یہی کیفیت دل کے دورے، فالج اور دیگر امراض کا راستہ ہموار کرتی ہے۔نیند کی خرابی سے پیدا ہونے والے اسٹریس ہارمونز انسولین کے عمل میں رکاوٹ بنتے ہیں، جس سے شوگر لیول قابو میں رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ماہرین کا مشورہ ہے کہ اگر خراٹے بہت زیادہ ہوں، سانس رکتی محسوس ہو یا دن میں غیر معمولی تھکن رہے تو اسے معمولی نہ سمجھیں اور ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں