خصوصی افراد کیلئے مختص 3فیصد کوٹہ پر عملدرآمد نہ ہونا افسوسناک قرار

جڑانوالہ(نامہ نگار) “جڑانوالہ سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں اسپیشل افراد کیلئے مختص 3 فیصد کوٹہ کے تحت عملدرآمد نہ ہونے اور ملازمتیں نہ ملنے پر سینکڑوں پڑھے لکھے مستحق مرد/خواتین در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو گئے،متعلقہ اداروں کے سربراہان نے بھی آنکھیں بند کر لیں،وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف،صوبائی وزیر لیبر ڈیپارٹمنٹ پنجاب سے اس گھمبیر صورتحال کا فی الفور نوٹس لینے کا مطالبہ،تفصیلات کے مطابق ایک طرف پنجاب حکومت تمام شعبہ جات میں بہترین سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے گراں قدر خدمات سرانجام دے رہی ہے اور دوسری جانب اسپیشل افراد کی فلاح وبہبود کیلئے قانون سازی پر عملدرآمد کروانے کیلئے کوشاں ہے مگر دوسری جانب جڑانوالہ سمیت صوبہ بھر میں سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں اسپیشل افراد کیلئے مختص 3 فیصد کوٹہ سسٹم پر عمل درآمد نہ ہونے اور ملازمتیں نہ ملنے پر سینکڑوں پڑھے لکھے مستحق مرد/خواتین دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو چکے ہیں جڑانوالہ و گرد و نواح میں سینکڑوں صعنتی یونٹس و فیکٹریاں قائم ہے جہاں اسپیشل افراد کو نوکریاں نہ دی گئی ہے جبکہ تمام سرکاری ادروں میں بھی درجنوں سیٹوں پر تاحال تعیناتیاں نہ ہو پائی ہے یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ محکمہ لیبر ڈیپارٹمنٹ مجوزہ ایکٹ 1934 فیکڑیز ایکٹ پر علمدار کروانے میں بے بس دکھائی دیتے ہیں ایکٹ کے تحت فیکٹری مالکان ورکر ویلفیئر 1 سے 2 فیصد تک فنڈز جمع کروانے کے بھی پابند ہے مگر لیبر ڈیپارٹمنٹ انسپکٹر کی مبینہ چشم پوشی کے باعث فیکٹریز مالکان مبینہ طور پر ریکارڈ میں ہیر پھیر کرتے ہیں اور حکومت کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مرتکب پائے جا رہے ہیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جڑانوالہ میں محکمہ لیبر ڈیپارٹمنٹ کے پاس سرکاری و نیم سرکاری اداروں نجی کارخانوں فیکٹریز میں کوٹہ کے تحت کام کرنیوالے اسپشل افراد کی ملازمتوں کا کوئی مناسب ریکارڈ موجود نہ ہے اور متعلقہ ارادے و افسران بااثر فیکڑیز مالکان کے سامنے بھیگی بلی بنے ہوئے ہیں جبکہ کاغذی فائلوں میں اکا دکا فرضی کارروائیاں کرکے حکام بالا کو سب اچھا کی رپورٹ پیش کی جا رہی ہے جڑانوالہ کے اسپیشل افراد مرد/خواتین نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف،صوبائی وزیر لیبر ڈیپارٹمنٹ پنجاب و دیگر حکام بالا سے مطالبہ کیا ہے کہ اسپیشل افراد کیلئے مختص 3 فیصد کوٹہ کے تحت انہیں ملازمتوں کی فراہمی یقینی بنائی جائیں تاکہ وہ بھی معاشرے میں باعزت روزگار کما سکیں جبکہ کوٹہ سسٹم پر عمل درآمد نہ کروانے والے سرکاری و نیم سرکاری اداروں کے سربراہان کیخلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں