9

خطے میں بھارت کا علاقائی اثرورسوخ کمزور پڑنے لگا (اداریہ)

امریکی جریدے فارن افیئر نے اپنے تازہ ترین تجزیے میں کہا ہے کہ بھارت کا خود کو امریکہ کا ایک مضبوط سٹریٹجک ستون قرار دینے کا دعویٰ حالیہ واقعات کے بعد کمزور پڑتا دکھائی دے رہا ہے جریدے کے مطابق مئی 2025ء کی پاکستان بھارت جنگ کے بعد واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات اپنی تاریخ کے شدید ترین تنائو سے گزر رہے ہیں، فارن افیئرز کے مطابق جنگ بندی میں امریکی صدر ٹرمپ کے کردار کو پاکستان نے کھلے دل سے سراہا جبکہ بھارت نے امریکی ثالثی کو مسترد کیا امریکی صدر کی جانب سے پاکستان کی سفارتی اور عسکری کامیابیوں کا بار بار ذکر اور پاکستانی قیادت کے ساتھ مثبت روابط بھارت کے لیے سفارتی سطح پر سبکی کا باعث بنے جریدے کے مطابق امریکی صدر نے بھارت کے ساتھ مجوزہ تجارتی معاہدے پر دستخط سے انکار کیا اور بھارتی برآمدات پر اضافی محصولات عائد کئے جس سے دوطرفہ تعلقات مزید متاثر ہوئے۔ فارن افیئرز کا کہنا تھا کہ ان اقدامات کے باعث امریکہ میں یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ بھارت ایک قابل اعتماد اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر ہاتھ سے نکل سکتا ہے ماہرین کا کہنا تھا کہ اگر بھارت معمولی سفارتی اختلافات پر امریکہ سے دوری اختیار کرتا ہے تو یہ اسی بات کی علامت ہے کہ وہ ایک پُراعتماد اور مستحکم شراکت دار نہیں ماہرین کے مطابق جنوبی ایشیا میں پائیدار استحکام دوہرے معیار کے بجائے برابری اور حقیقت پسندانہ سفارتی تعلقات سے ہی ممکن ہے خطے میں بھارت کا علاقائی اثرورسوخ کمزور ہونے لگا ہے اور اس کے ہمسایہ ممالک بتدریج نئی سفارتی سمت اختیار کر رہے ہیں، بین الاقوامی مبصرین کے مطابق بھارت کی سخت گیر اور انتہاپسندانہ پالیسیوں کے باعث اسے عالمی اور علاقائی سطح پر سفارتی تنہائی کا سامنا ہے جنوبی ایشیا میں بھارت کی مبینہ بالادستی کے منصوبے کو متعدد سفارتی ناکامیوں کا سامنا رہا، جبکہ مودی حکومت کو خارجہ محاذ پر مسلسل دبائو کا سامنا ہے، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہندوتوا پر مبنی سیاسی نظریے نے بھارت کو اپنے ہی خطے میں تنہا کر دیا ہے بنگلہ دیش اور میانمار اب بھارت کے اثر سے نکل کر پاکستان اور چین کے ساتھ تعلقات مضبوط کر رہے ہیں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی سفارتی کمزوریوں نے اسے سنگین سیاسی اور جغرافیائی چیلنجز سے دوچار کر دیا ہے،، امریکی جریدے فارن افیئرز کی رپورٹ نے بھارت کی چوہدراہٹ کا پول کھول کر رکھ دیا ہے یہ بات حرف بحرف سچ ہے کہ اب بھارت کا خطے میں اثرورسوخ کمزور پڑ چکا ہے اور اسی وجہ سے بنگلہ دیش اور میانمار بھی بھارت سے دور ہوتے جا رہے ہیں اور پاکستان اور چین کے ساتھ تعلقات قائم کر رہے ہیں خطے میں بھارت کی گرفت ڈھیلی پڑ چکی ہے جس کے ذمہ دار مودی ہیں جن کی ناقص سفارتی پالیسیوں اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ رویہ نے یہ دن دکھایا ہے امریکی جریدے نے کھل کر یہ اس بات کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان اور بھار کے درمیان جنگ بندی میں پاکستان نے امریکی صدر کے کردار کو سراہا جبکہ بھارت نے امریکی ثالثی کو مسترد کیا اور امریکی صدر کو ناراض کیا ٹرمپ نے اس جنگ میں پاکستان کی کامیابی کا متعدد بار ذکر کیا جو اس بات کا اظہار ہے کہ اب بھارت کی امریکہ میں وہ قدر نہیں رہی جو پہلے تھی امریکہ اب پاکستان سے تعلقات کو مضبوط بنا رہا ہے اور پاکستان کی خطے میں اہمیت بڑھ رہی ہے پاکستان نے اپنی جاندار سفارت کاری سے دنیا میں اپنا مقام بنایا اور بھارت سفارتی سطح پر ناکام ہوا سازشی بھارتی حکمران معرکہ حق میں اپنی شکست پر تلملا رہے ہیں اور اپنی شکست کو تسلیم کرنے کے بجائے مختلف قسم کے بیانات جاری کر رہے ہیں مگر حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ بھارت جتنا مرضی زور لگا لے اب اس کی خطے میں اہمیت نہیں رہی کیونکہ امریکی صدر کی ثالثی مسترد کرنے کی سزا تو اسے ملنا ہی تھی بہتر یہ ہے کہ بھارت اب بھی اپنی سازشوں کو ختم کر کے خطے میں قیام امن کیلئے ہمسایہ ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم کرنے کی سنجیدہ کوششیں کرے بصورت دیگر اسکی عالمی طور پر سفارتی تنہائی تو پہلے ہی اس کے بعد خطے میں بھی وہ تنہا رہ جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں