خطے میں کشیدہ صورتحال کے باوجود مارچ میں ماہانہ بنیادوں پر پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافہ ہو گیا فروری کے مقابلے میں مارچ 2026ء میں ٹیکسٹائل برآمدات ڈیڑھ فی صد اضافے کے بعد ایک ارب 35کروڑ ڈالرز رہیں گزشتہ مہینے ماہانہ بنیادوں پر ٹیکسٹائل کی برآمدات میں ڈیڑھ فی صد کا اضافہ ہوا تاہم مارچ میں سالانہ بنیادوں پر ٹیکسٹائل برآمدات میں چھ اعشاریہ دو پانچ فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی اور رواں مالی سال کے پہلے 9ماہ کے دوران ٹیکسٹائل برآمدات میں صفر اعشاریہ ایک پانچ فیصد کی کی معمولی کمی ہوئی۔ پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات مارچ میں ایک ارب 35کروڑ ڈالرز رہیں جو فروری 2026ء میں ایک ارب 33 کروڑ ڈالرز تھیں جبکہ مارچ 2025ء میں پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات کا حجم ایک ارب 44کروڑ ڈالر تھا، رواں مالی سال کے پہلے 9ماہ جولائی 2025ء سے لیکر مارچ 2026ء میں ٹیکسٹائل برآمدات 13ارب 61کروڑ ڈالرز ہیں جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات 13ارب 63کروڑ ڈالرز تھیں،، ایران امریکہ کشیدگی سے پیدا ہونے والی صورتحال کے باوجود پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافہ ہونا خوش آئند ہے اس وقت پاکستان اپنی معیشت کو بہتر بنانے کیلئے کوشاں ہیں اور ملکی برآمدات میں اضافہ ان کوششوں کیلئے انتہائی ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے صرف ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافہ سے بات نہیں بنے گی حکومت کو اس حوالے سے برآمدکنندگان کو سہولیات فراہم کرتے ہوئے مختلف مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ کیلئے ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہو گی تاکہ ملکی زرمبادلہ میں اضافہ ہو سکے۔ بیرونی ممالک کو سپورٹس’ کٹلری’ آئی ٹی’ چمڑے کا سامان’ گارمنٹس’ گندم چاول’ کپاس ودیگر اجناس کی برآمدات میں بھی اضافہ ضروری ہے۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث اشیائے خوردونوش کی بہت ضرورت ہے اور حکومت اس حوالے سے پالیسی بنا کر برآمدات کے لیے پالیسیاں بنا سکتی ہے بلوچستان میں واقع گوادر کی بندرگاہ سے یو اے ای اور دیگر خلیجی ریاستوں کو اشیائے خوردونوش کی برآمدات ممکن بنائی جا سکتی ہے یہ راستہ محفوظ بھی ہے اور کم خرچ بھی۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ملکی برآمدات کیلئے برآمدکنندگان کو زیادہ سے زیادہ سہولیات اور آسانیاں پیدا کرے تاکہ ملک میں تیار کی جانے والی مصنوعات کو بیرونی منڈیوں میں برآمد کرکے ملک کیلئے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکے۔ پاکستان کے پاس خلیجی منڈیوں میں اپنی برآمدات بڑھا کر اس کا فائدہ اٹھانا چاہیے اس وقت پاکستان کیلئے نادر موقع ہے اور اسے گنوانا دانشمندی نہیں ہو گی۔




