خواتین کو بااختیار بنانا قومی ترقی کیلئے ناگزیر ہے،ڈاکٹر عمران پاشا،ڈاکٹر بینش اسرار

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) خواتین کو بااختیا ر بنانا پائیدار ترقی، سماجی ہم آہنگی اور قومی پیش رفت کے لیے ناگزیر ہے جبکہ جامعات کو چاہیے کہ وہ بااعتماد، تعلیم یافتہ اور سماجی طور پر ذمہ دار خواتین کی تربیت میں قائدانہ کردار ادا کریں تاکہ وہ معاشرے میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔ ان خیالا ت کا اظہار مقررین نے انسٹی ٹیوٹ آف ہوم سائنسز زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے زیراہتمام خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈین فیکلٹی آف فوڈ ، نیوٹریشن اینڈ ہوم سائنسز پروفیسر ڈاکٹر عمران پاشا نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کا مطلب صرف گھریلو سطح پر ان کی خدمات کو تسلیم کرنا نہیں بلکہ معاشی اور سماجی میدانوں میں ان کے کردار کو بھی تسلیم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج خواتین سائنس، تعلیم، ٹیکنالوجی اور کاروبار سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں۔ ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف ہوم سائنسز ڈاکٹر بینش اسرار نے کہا کہ خواتین کو مساوی مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ ہر شعبے میں نمایاں کردار ادا کر سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ زرعی یونیورسٹی میں ہم نوجوان خواتین میں قائدانہ صلاحیتیں پیدا کرنے پر توجہ دیتے ہیں تاکہ وہ مثبت تبدیلی کی علمبردار بن سکیں اور اپنی کامیابیوں کے ذریعے آنے والی نسلوں کے لیے مثال قائم کریں۔ ڈاکٹر محمد عاطف رندھاوا نے تعلیمی اداروں اور کام کی جگہوں پر خواتین کے لیے محفوظ اور باعزت ماحول کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ صنفی مساوات پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ رکن صوبائی اسمبلی پنجاب عظمیٰ جبیں رانا نے کہا کہ تعلیم، مہارتوں کی ترقی اور پالیسی معاونت کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنانا قومی ترقی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے صنفی مساوات کے فروغ اور خواتین کے لیے تعلیم، روزگار اور قیادت کے مواقع پیدا کرنے کے حوالے سے حکومت کے عزم کو اجاگر کیا۔ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد کی اسسٹنٹ پروفیسر قانون ڈاکٹر فوزیہ نسیم نے خواتین میں قانونی آگاہی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے آئینی اور قانونی حقوق سے آگاہی حاصل کریں تاکہ وہ ناانصافی کے خلاف اعتماد کے ساتھ آواز اٹھا سکیں اور ایک منصفانہ اور مساوی معاشرے کی تعمیر میں کردار ادا کریں۔ گائناکالوجسٹ ڈاکٹر نعیمہ منصور نے کہا کہ خواتین کی صحت اور فلاح و بہبود ایک مضبوط اور پیداواری معاشرے کے لیے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ تولیدی صحت، غذائیت اور ذہنی صحت کے حوالے سے آگاہی خواتین کے لیے زندگی کے ہر مرحلے میں ضروری ہے۔ سابقہ ممبر صوبائی اسمبلی ڈاکٹر نجمہ افضل نے کہا کہ طالبات خود اعتمادی پیدا کریں، اپنے خوابوں کی جرات کے ساتھ پیروی کریں اور ان روایتی تصورات کو چیلنج کریں جو خواتین کی پیشہ ورانہ شعبوں میں شرکت کو محدود کرتے ہیں۔ انہوں نے نوجوان خواتین کو ایک دوسرے کا ساتھ دینے اور باہمی تعاون کے ساتھ آگے بڑھنے کی تلقین کی۔ ڈاکٹر عائشہ ریاض، ڈاکٹر حرا افتخار، الوینہ حسیب، نزویٰ اطرت اور دیگر مقررین نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں