خونخوار چبے منہ والی مچھلی دریافت

میدرد (مانیٹرنگ ڈیسک) سپین کے جزائر کناری میں واقع سب سے بڑا اور گنجان آباد جزیرے ٹینیریف کے قریب ایک ایسی مچھلی دیکھی گئی ہے جسے دیکھ کر ماہرین حیران رہ گئے۔ یہ وہ مخلوق ہے جو عام طور پر سمندر کی انتہائی گہرائیوں میں پائی جاتی ہے، جہاں سورج کی روشنی بھی نہیں پہنچتی۔ پانی کا دبا اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ عام جاندار وہاں زندہ نہیں رہ سکتے، لیکن یہ مچھلی انہی حالات میں پروان چڑھتی ہے۔ یہ عجیب و غریب مچھلی بلیک سی ڈیول یا ہمپ بیک اینگلرفش کہلاتی ہے۔ اس کا جسم کالا، دانت خنجر جیسے نوکدار، اور آنکھیں بغیر پلکوں کے سیدھی دیکھتی ہیں، جیسے کسی کو ترس نہ آتا ہو۔ اس کے کھلے ہوئے منہ کو دیکھ کر لگتا ہے جیسے وہ سامنے آنے والی ہر چیز نگل لے گی۔یہ خطرناک نظر آنیوالی مخلوق عام طور پر ہزاروں میٹر گہرائی میں رہتی ہے، لیکن حال ہی میں یہ حیران کن طور پر سطح کے قریب دیکھی گئی۔ ماہرینِ حیاتیات نیسیاحت کے ایک بڑے مرکز ٹینیریف کے ساحل سے تقریبا دو ہزار میٹر دور پانی میں فلم بند کیا، جب وہ شارک ریسرچ مہم پر تھے۔ماہرین کے مطابق یہ پہلا موقع ہے جب ایک زندہ بالغ بلیک سی ڈیول کو سطح کے قریب دیکھا اور ریکارڈ کیا گیا ہے۔ خوش قسمتی سے یہ مچھلی صرف 6انچ لمبی ہے، اس لیے تیراکوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ لیکن اس کی خوفناک شکل نے ہر دیکھنے والے کو چونکا دیا ہے۔یہ حیران کن دریافت یاد دلاتی ہے کہ زمین کے سمندر اب بھی ایسے رازوں سے بھرے ہیں جنہیں انسان نے ابھی پوری طرح دریافت نہیں کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں