درویش صفت صحافی عتیق الرحمن …

شرافت کی صحافت کے علمبردار عتیق الرحمن بھی اب ہم میں نہیں رہے مگر ان کی یادیں ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گی، میں نے جب صحافت کا آغاز کیا تب سے میرا ان کے ساتھ بڑے پیار ومحبت اور باہمی احترام کا رشتہ رہا، چھوٹی ڈی گرائونڈ میں رہائشگاہ ہونے کے ناطے میری ان سے سرراہ بھی ملاقات ہو جاتی تھی اور وہ ہمیشہ بڑے اخلاق’ الفت ومحبت اور گرم جوشی سے ملتے رہے، ان کے بیٹے سینئر صحافی شاہد محمود بھی میرے قریبی دوست ہیں اور وہ اپنے والد گرامی کی طرح اعلیٰ صحافتی اقدار کی پاسداری کر رہے ہیں، فیصل آباد کی صحافتی دنیا میں چوہدری شاہ محمد عزیز’ امام بخش ناسخ سیفی’ خلیق قریشی اور چوہدری ریاست علی آزاد چہار درویش کے نام سے مشہور ہیں۔ درویش صفت صحافی عتیق الرحمن کے والد گرامی امام بخش ناسخ سیفی اور آبروئے صحافت چوہدری شاہ محمد عزیز نے قیام پاکستان سے قبل 1937ء میں کمالیہ سے روزنامہ سعادت کا اجراء کیا، قیام پاکستان کے بعد امام بخش ناسخ سیفی نے روزنامہ سعادت کی اکیلے ذمہ داری سنبھال لی اور آبروئے صحافت شاہ محمد عزیز نے ”ڈیلی بزنس رپورٹ” کا ڈیکلریشن حاصل کر کے اسے فیصل آباد سے شائع کرنا شروع کر دیا، ان عظیم صحافیوں نے ہمیشہ حق گوئی وبیباکی کا مظاہرہ کیا اور زندگی کے کسی بھی موڑ پر ان کے پائے استقامت میں معمولی سی لغزش بھی پیدا نہیں ہو سکی، امام بخش ناسخ سیفی کے صاحبزادے’ درویش صفت صحافی عتیق الرحمن بھی ان نامور صحافیوں میں شامل ہیں، جنہوں نے تحریر وتقریر کے ذریعے صحافتی میدان میں گرانقدر خدمات سرانجام دیں اور ہمیشہ مثبت وتعمیری صحافت کو فروغ دیا، ملک وقوم کی تعمیر وترقی اور دکھی انسانیت کی بھلائی کے لیے انہوں نے ہمیشہ مضبوط اور توانا آواز اٹھائی اور اپنے اخبار کو فلاح انسانیت کیلئے وقف کئے رکھا، ملک وقوم کی تعمیر وترقی’ عوامی مسائل کا حل اور معاشرے کی اصلاح ان کا مشن تھا، جس کی تکمیل کے لیے وہ ہمہ وقت کوشاں نظر آئے، صحافت معاشرے کی آنکھ اور ریاست کا چوتھا ستون ہے، صحافی قومی خدمت کے جذبہ سے سرشار ہو تو اس کے قلم سے لکھا گیا ہر لفظ اثر رکھتا ہے، صحافیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ صرف وہی بات کریں جو ملک وقوم کے بہترین مفاد میں ہو، یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ صحافت پھولوں کی سیج نہیں بلکہ ایک ایسی پرخار وادی ہے جہاں اس شعبہ سے وابستہ افراد کو قدم قدم پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ صحافیوں نے اپنے اس نیک مقصد کی تکمیل کیلئے کبھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا، محترم عتیق الرحمن بھی وہ عظیم صحافی ہیں جنہوں نے زندگی بھر اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا، انہوں نے معاشرتی برائیوں کی بے باک طریقے سے نشاندہی میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا اور اپنے قلم کے زور پر قومی مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے آزادی صحافت پر آنچ نہ آنے دی، ان کی صحافتی خدمات تاریخ کا روشن باب ہیں، صحافت وہ پیشہ ہے جس سے وابستہ افراد عوام اور حکومت کے درمیان پُل کا کردار اد کرتے ہیں جبکہ صحافیوں پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ عوام کو اصل حقائق سے باخبر رکھیں، صحافی ہر دور میں ظلم وجبر کیخلاف آواز بلند کرتے ہوئے معاشرتی برائیوں کی بے باک طریقے سے نشاندہی کرتے ہیں، بلاشبہ! روزنامہ تجارتی رہبر کے پبلشر اور منیجنگ ایڈیٹر عتیق الرحمن بھی اعلیٰ صحافتی اقدار پر عمل پیرا رہے اور ان کی عظیم صحافتی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکے گا، محنت’ دیانتداری اور حسن اخلاق وہ اعلیٰ اوصاف ہیں جن پر عمل پیر اہونے سے کسی بھی انسان کیلئے کامیابیوں کے دروازے کھل جاتے ہیں، محنت لگن اور مسلسل کوشش سے انسان اپنی زندگی بدل سکتا ہے، زندگی میں بہت سے واقعات ایسے ہوتے ہیں جو انسان کی زندگی کو پوری طرح بدل دیتے ہیں، اعلیٰ اخلاقی اقدار پر عمل پیر اہونے سے انسان اپنے رب کے بہت قریب ہو جاتا ہے اور اسے اﷲ تعالیٰ اور رسول کریم حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت حاصل ہو جاتی ہے، انسان میں یقین کامل ہونا بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے، آپ کے اندر اعتماد ہونا چاہیے، خود اعتمادی آپ کی زندگی میں تبدیلی لانے کیلئے بہت ضروری ہے، انسان کو اﷲ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات کا درجہ اس لئے دیا کہ وہ سوچ وفکر سے اپنی ذات اور اس دنیا میں تبدیلی لا سکتا ہے، مسلسل جدوجہد اور کوشش ضرور رنگ لاتی ہے اور یہ بات قابل صد تحسین ہے کہ امام بخش ناسخ سیفی کے صاحبزادے سینئر صحافی عتیق الرحمن نے زندگی بھر محنت اور لگن سے کام لیا اور معاشرتی اصلاح کے لیے ان کی کوششیں کامیابی سے ہمکنار ہوتی رہیں، محنت’ شرافت اور دیانت سے کام لینے والے ناسخ سیفی خاندان کے چشم وچراغ’ محمد رضوان سیفی کے بھائی’ سینئر صحافی ایڈیٹر روزنامہ تجارتی رہبر فیصل آباد شاہد محمود کے والد گرامی محترم عتیق الرحمن پوری زندگی اعلیٰ صحافتی اصولوں پر عمل پیرا رہے، محنت لگن اور دیانتداری سے کام لینا ان کے لیے زندگی کے ہر موڑ پر کامیابی کا ذریعہ بنا، یہ دنیا ایک دارفانی ہے یہاں جو بھی آیا اسے ایک دن یہاں سے کوچ کر جانا ہے مگر کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی موت پر رشک آتا ہے، سینئر صحافی محترم عتیق الرحمن بھی خوش قسمت ہیں کہ انہیں رمضان المبارک کے مہینے میں اس دنیا کو خیرباد کہنا نصیب ہوا، دعا ہے کہ اﷲ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے، آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں