دلہن بننے کا خواب چکنا چور،غلط انجکشن سے دوشیزہ موت کی وادی میں پہنچ گئی

جڑانوالہ (نامہ نگار) عطائی ڈاکٹر کے مبینہ غلط انجکشن لگنے سے دوشیزہ جاں بحق،متوفیہ کی ایک ماہ بعد شادی تھی،معاملہ کو دبانے کیلئے گائوں کے بااثر افراد نے تدفین کروا دی، عوامی سماجی حلقوں کا وزیراعلیٰ پنجاب، صوبائی وزیر صحت، سیکرٹری ہیلتھ پنجاب، کمشنر،ڈپٹی کمشنر فیصل آباد سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق محکمہ صحت کی مبینہ چشم پوشی کے باعث جڑانوالہ و گرد و نواح میں عطائیت کا دھندہ بے لگام ہو چکا ہے آئے روز عطائیت کے ہاتھوں انسانی جانوں کا ضیائع معمول بن چکا ہے عطائیت کے ہاتھوں اموات کا نہ ختم ہونے کا سلسلہ لمحہ فکریہ بن چکا ہے جڑانوالہ کے نواح بچیانہ کے نواحی گائوں چک نمبر 7گ ب میں بشیر اپنی بیٹی نازیہ کو طبعیت خراب ہونے پر عطائی ڈاکٹر مٹھو کے کلینک پر لے کر گیا جہاں عطائی ڈاکٹر مٹھو کے مبینہ غلط انجکشن لگانے پر نازیہ جاں بحق ہو گئی یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ عطائی ڈاکٹر کے مبینہ غلط انجکشن لگنے سے جاں بحق ہونیوالی دوشیزہ کی 1ماہ بعد شادی تھی عطائیت کی بھینٹ چڑھنے والی دوشیزہ شادی کا جوڑا پہننے کی بجائے کفن پہن کر منوں مٹی تلے دب گئی جبکہ گھر میں صف ماتم بچھ گئی یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ عطائیت کے ہاتھوں جاں بحق ہونیوالی دوشیزہ کے معاملہ کو گائوں کے چند بااثر افراد نے مبینہ طور پر دبانے کیلئے تدفین کروا دی ہے جس پر عوامی سماجی حلقوں میں شدید غم و غصہ کی لہر پائی جا رہی ہے۔ عوامی سماجی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف،صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر،سیکرٹری ہیلتھ نادیہ ثاقب،کمشنر اور ڈپٹی کمشنر فیصل آباد سے مطالبہ کیا ہے کہ عطائی ڈاکٹر مٹھو کیخلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور جڑانوالہ میں عطائیت کیخلاف بلا امتیاز کریک ڈائون کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں