دل کا دورہ پڑنے پر کونسے اقدامات اپنانے چاہئیں؟

لاہور ( بیو رو چیف )دل کا دورہ عالمی سطح پر موت کی سب سے بڑی وجوہات میں سے، دل کا دورہ وہ طبی حالت ہے جو اچانک اور کبھی بھی ہوسکتی ہے۔آخر میں یہ بات ضرور یاد رکھیں کہ تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ دل کا دورہ پڑنے کے پہلے گھنٹے میں اٹھائے گئے اقدامات ہی بہتر یا خراب نتائج کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔دل کا دورہ اس وقت ہوتا ہے جب دل کے پٹھوں کے کسی حصے میں آکسیجن والا خون کا بہا بند ہو جاتا ہے۔ آکسیجن کے بغیر دل کے پٹھے مردہ ہونے لگتے ہیں۔ہارٹ اٹیک کی علامات میں سینے، ایک یا دونوں بازوں، کمر، گردن، جبڑے یا پیٹ میں درد، سانس لینے میں دشواری، ٹھنڈا پسینہ، متلی یا سر میں ہلکا درد شامل ہیں۔ ان علامات کو پہچاننا دل کے دورے سے بچنے کیلئے پہلا قدم ہے بالخصوص جب آپ کے آس پاس مدد کرنے والا کوئی نہ ہو۔ایمرجنسی سروسز کو کال کریں: یہ ہمیشہ آپ کا پہلا کام ہونا چاہیے۔ یہ مت سوچیں کہ علامات درد ختم ہوجائے گا۔ جتنی جلدی آپ مدد حاصل کریں گے آپ کے دل کو اتنا ہی کم نقصان پہنچے گا اور آپ کے زندہ رہنے کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوں گے۔ڈسپرین چبائیں: 325 ملی گرام کی ڈسپرین چبائیں۔ گولی کو نگلنے کے بجائے چبانے کی وجہ سے یہ جلدی جذب ہوگی جس سے خون کے جمنے کے عمل کو محدود کیا جاسکتا ہے۔پرسکون رہیں: گھبراہٹ دل میں آکسیجن کی مانگ کو بڑھادیتی ہے۔ ایک آرام دہ پوزیشن تلاش کریں جیسے ترچھے ہوکر ٹیک لگاکے بیٹھیں۔ یہ آپ کے دل پر کم دبا ڈالے گا۔غسل نہ کریں: یہ تکلیف دہ احساس کو عارضی طور پر دور کرسکتا ہے لیکن یہ دل پر دبا کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں