دنیا کا سب سے بڑا برفانی تودہ ٹکڑوں میں تقسیم ہونے لگا

واشنگٹن ( مانیٹرنگ ڈیسک )دنیا کا سب سے بڑا برفانی تودہ A23، جس کا رقبہ 1200 مربع میل ہے، اب چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم ہونا شروع ہو گیا ہے۔ ناسا کی ایکوا سیٹلائٹ سے حاصل شدہ چونکا دینے والی تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ اس برفانی تودے کے شمالی کنارے پر دراڑیں پڑنا شروع ہو گئی ہیں جس سے قریبی سمندری علاقہ ایک برفانی بارودی سرنگوں کے میدان میں تبدیل ہو چکا ہے۔ناسا کے مطابق ہزاروں برف کے ٹکڑے سمندری سطح پر تیر رہے ہیں، جس کا منظر کسی تاریک ستاروں والی رات کی طرح نظر آرہا ہے۔A23 جو کئی دہائیوں تک سمندر کی تہہ سے چپکا رہا چند سال قبل علیحدہ ہو کر جنوبی بحر میں بہنا شروع ہوا۔ 2024 میں یہ برفانی تودہ ایک گھومتے ہوئے سمندری بگولے میں پھنس گیا تھا مگر بعد میں اس سے نکل کر شمال کی جانب سفر کرنے لگا۔جنوری میں یہ جنوبی جارجیا جزیرے کے قریب پہنچا جو ایک برطانوی علاقہ ہے اور اپنے منفرد جنگلی حیات، خاص طور پر پینگوئنز اور سیلز کے لیے مشہور ہے۔ تاہم یہ ساحل سے تقریبا 60 میل دور رک گیا جو سائنسدانوں کے مطابق اس کا ممکنہ آخری پڑا ہو سکتا ہے۔اگرچہ تودہ جزیرے سے نہیں ٹکرایا مگر اس کی موجودگی سے یہاں کے لاکھوں جانوروں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ پینگوئنز کو خوراک کے لیے طویل فاصلہ طے کرنا پڑ سکتا ہے جبکہ برف کے پگھلنے سے سمندری پانی کے درجہ حرارت اور نمکیات میں تبدیلی کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔2004 میں ایک اور برفانی تودہ A38 کی وجہ سے کئی پینگوئن چوزے اور سیل کے بچے بھوک سے مر گئے تھے کیونکہ ان کے خوراک تک پہنچنے کے راستے بند ہو گئے تھے۔ ماہرین کو امید ہے کہ A23 کی موجودہ پوزیشن ساحل سے دور ہے جس سے اثرات محدود ہو سکتے ہیں۔تاہم صرف جانور ہی خطرے میں نہیں بلکہ انسانوں کو بھی خطرہ لاحق ہے۔ ناسا کے مطابق کچھ برفانی ٹکڑے آدھے میل سے بڑے ہیں، جو سمندری جہازوں کے لیے بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔سب سے بڑا موجودہ ٹکڑا، جو تقریبا 50 مربع میل پر مشتمل ہے اب جنوبی جانب جا رہا ہے اور سیٹلائٹ کی نظروں سے اوجھل ہو چکا ہے۔یہ صورتحال 2023 کے واقعے کی یاد دلاتی ہے جب A76 نامی برفانی تودہ بھی زمین سے ٹکرانے کے قریب پہنچ گیا تھا جس سے جزیرہ جنوبی جارجیا برفانی رکاوٹوں میں گھر گیا تھا۔جزیرے کے سرکاری بحری جہاز فاروس کے کپتان سائمن والیس نے بتایا: یہ ٹکڑے پورے جزیرے کو گھیر لیتے ہیں، ہمیں ان میں سے راستہ نکالنا پڑتا ہے۔ ان کی ٹیم رات بھر روشنیوں کے ساتھ گشت کرتی ہے تاکہ کسی بڑے برفانی ٹکڑے سے ٹکرا نہ جائے۔اگرچہ A23 ٹوٹ رہا ہے لیکن اس کا مکمل خاتمہ جلد ممکن نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے مکمل پگھلنے میں مہینوں یا حتی کہ سال لگ سکتے ہیں۔ تب تک A23 ممکنہ طور پر دنیا کا سب سے بڑا برفانی تودے کا اعزاز کھو دے گا کیونکہ یہ صرف 12 مربع میل بڑے فرق سے D15A نامی برفانی تودے سے آگے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں