52

دو جوہری قوتوں میں جنگ خطرناک ہو گی (اداریہ)

پہلگام واقعہ کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے اور پاکستان کا ازلی دشمن بھارت اپنی دفاعی قوت پر ناز کرتے ہوئے پاکستان کو تاراج کرنے کے خواب دیکھ رہا ہے نریندر مودی کی عیاریاں جاری اور وہ در پردہ پاکستان پر حملہ کی سازشیں کر رہا ہے لیکن بھارت کو یہ معاملہ آسان نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ پاکستان جوہری قوت اور افواج پاکستان دنیا کی بہترین افواج میں سے ایک ہیں نڈر’ بے خوف’ جان کی قربانی سے نہ گھبرانے والے ہمارے جوان دشمن کے لیے سیسہ پلائی دیوار کی مانند ہیں پاکستان اور بھارت میں اگر جنگ ہوئی تو دونوں کو تباہ کن نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے بھارت بڑی آبادی والا ملک ہے اور وہاں انسانی جانوں اور بنیادی ڈھانچے کے لحاظ سے زیادہ وسیع نقصان ہو گا ممبئی’ دہلی جیسے بڑے شہر ممکنہ ہدف ہو سکتے ہیںشدید تباہی اور بربادی کی یہ داستان رہتی دنیا تک اثرات سے پاک نہ ہو سکے گی بہت سے شہر صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گے اور شائد دوبارہ وجود نہ پا سکیں اور نسلیں اس کو نہ بھلا سکیں بھارت کو اس جنگ میں اس کی توقع سے بڑھ کر نقصان ہو گا مودی جنگ کو کھیل سمجھ رہا ہے اور یہ کھیل اس کے اپنے گلے پڑ جائے گا بھارتی وزیراعظم مودی کے پاس بھی وقت ہے کہ وہ جنگ کا ارادہ ترک کر دے اگر اس نے مہم جوئی کی تو پھر بھارت کا وجود بھی خطرے میں ہو گا پاکستان اور بھارت جوہری قوتیں ہیں اور اگر کسی ایک نے بھی جوہری ہتھیار استعمال کئے تو دوسرا ملک بھی جوابی طور پر جوہری ہتھیار استعمال کرنے پر مجبور ہو گا اور یہ بہت خطرناک ہو گا کیونکہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے جو تباہی مچے گی اس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا جوہری تباہی کے طویل مدتی ماحولیاتی نتائج ہوں گے جس سے نہ صرف خطہ بلکہ عالمی ماحولیاتی نظام بھی متاثر ہو گا انسانی بحران بہت زیادہ ہو گا دونوں ملکوں کے درمیان جنگ سے تجارت’ معطل ہونے سے بدتر معاشی حالات سر اٹھائیں گے بھارت کے مقابلہ میں پاکستان جنگ کی دھمکیوں کے باوجود تحمل بردباری کا مظاہرہ کر رہا ہے جبکہ بھارتی قیادت جذبات سے فیصلے کر رہی ہے جو اس کے لیے مضر ثابت ہو سکتے ہیں 1945ء میں ہیروشیما اور ناگاساکی کے ایٹمی دھماکوں کے بعد جاپان کی تبدیلی کی لچک اور بحالی ایک شاندار کہانی ہے یہاں جاپان کا تب اور اب کا موازنہ ہے جاپان میں ایٹمی حملوں کے بعد بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی معیشت پر یا زور انفراسٹرکچر تباہ ہو گیا یہ سب کچھ ہمارے لئے سبق ہے اگر پھر بھی بھارت جنگ چاہتا ہے تواسے بے وقوفی ہی کہا جا سکتا ہے پاکستان خطے میں امن کیلئے کوشاں ہے جبکہ بھارت خطے میں طاقت کا توازن بگاڑ رہا ہے دفاعی سازوسامان کے ڈھیر لگانے والا بھارت جنگی جنون میں مبتلا ہے اورایک جوہری طاقت کے حامل ملک کو جنگ کی دھمکیاں دے رہا ہے حالانکہ بھارت یہ جانتا ہے کہ وہ پاکستان کو جنگ میں گھسیٹ کر سراسر اپنا نقصان کرے گا 2جوہری ممالک کے درمیان جنگ سے پوری دنیا متاثر ہو گی بھارت پاکستان کو دفاعی لحاظ سے کمزور خیال کرتا ہے مگر یہ اس کی خام خیالی ہے حقیقت یہ ہے کہ پاکستان دفاعی معاملات میں بھارت سے زیادہ صلاحیتوں کا مالک ہے افواج پاکستان اپنی پیشہ وارانہ مہارت کے پیش نظر دنیا میں اپنا مقام رکھتی ہیں حالیہ کشیدگی میں بھارت نے پاکستان کو بے جا دبانے کی کوشش کی مگر پاکستان نے دبائو مسترد کرتے ہوئے بھارت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر واضح کیا ہے کہ پاکستان اینٹ کا جواب پتھر سے دے گا ہماری افواج الرٹ ہیں اور کسی بھی بھارتی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا اگر بھارت کوئی چھیڑخانی کرتا ہے تو وہ پاکستان کا اتنا نقصان نہیں کر سکتا جتنا اپنا کر لے گا فیصلہ اب بھارت کے ہاتھ میں ہے نریندر مودی کے پاس وقت ہے اور وہ جنگ کا ارادہ ترک کر دے ورنہ معاملہ اس کے ہاتھ سے نکل جائے گا اگر جنگ ہوئی اور جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا موقع آیا تو پھر دونوں ممالک کا بہت جانی ومالی نقصان ہو گا موجودہ حالات میں عالمی قوتیں اور اقوام متحدہ کو اہم کردار ادا کرتے ہوئے دونوں ملکوں کو خطرناک حد تک جانے سے روکنا ہو گا کیونکہ جنگ سے جنوبی ایشیا میں تباہی پھیلنے کا خدشہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں