28

دہشتگردوں کے خاتمہ تک افغانستان سے تجارت بند کرنیکا فیصلہ (اداریہ)

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردوں کے خاتمہ تک افغانستان سے تجارت بند رہے گی، پاکستان نے کابل میں کسی بھی حکومت سے بات چیت سے گریز نہیں کیا لیکن دہشت گردوں سے مذاکرات نہیں کرے گا، صدر ٹرمپ کے ایٹمی تجربات کے بیان پر بھارتی پروپیگنڈہ غلط اور بے بنیاد ہے، پاکستان افغان سرزمین سے پاکستان اور اس کے عوام کے خلاف ہونے والی دہشت گردی کو بالکل برداشت نہیں کرے گا، تحریک طالبان پاکستان’ بلوچ لبریشن آرمی اور دیگر ملیشیا گروہ پاکستان کے دشمن ہیں انہیں کسی طرح کی سہولت فراہم کرنے والے کو پاکستان اور اس کے عوام کا دوست نہیں سمجھا جا سکتا، فلسطین میں بین الاقوامی استحکام فورس میں پاکستان کی شمولیت کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا، انہوں نے طالبان حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کو پناہ گزین کے طور پر پیش کرنے کی کوششوں کو مکمل طور پر ناقابل قبول قرار دیا جمعہ کو ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین نے ٹی ٹی پی۔ بی ایل اے اور دیگر عسکریت پسند تنظیموں کو ”پاکستان دشمن” قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ انہیں سہولت فراہم کرنے والے کسی بھی ملک کو پاکستان اور اس کے عوام کا دوست نہیں قرار دیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تجارت پر افغان راہنمائوں کے بیانات دیکھے ہیں، تجارت کیسے اور کس سے کرنی ہے؟ یہ کسی بھی ملک کا انفرادی معاملہ ہے افغانستان سے تجارت یا ٹرانزٹ ٹریڈ وہاں سے دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے مکمل خاتمے کے بعد ہی ممکن ہے، تجارت انسانی جانوں کے ضیاع سے زیادہ اہم نہیں ہے پاکستان میں 2021 سے افغانستان سے شروع ہونے والے دہشت گرد حملوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جبکہ پاکستان نے کابل میں انسانی ہمدردی اور تجارتی سہولیات کی فراہم کا عمل جاری رکھا تاہم افغان عبوری حکام پاکستان کو نشانہ بنانے والے مخصوص گروہوں کو روکنے میں ناکام رہے ہیں انہوں نے طالبان حکومت کی طرف سے دہشت گردوں کو پناہ گزین کے طور پر پیش کرنے کی کوششوں کو مکمل طور پر ناقابل قبول کر دیا انہوں نے کہا کہ پاکستان صرف افغانستان میں مقیم تصدیق شدہ پاکستان شہریوں کو وصول کرنے کیلئے تیار ہے اور صرف اس صورت میں جب انہیں سرحدی گزرگاہوں پر باضابطہ طور پر حوالے کیا جائے انہوں نے مزید کہا کہ کسی کو بھی ہتھیاروں کے ساتھ دھکیلا نہیں جا سکتا ترجمان نے کہا کہ پاکستان کا دہشت گردی کے خاتمے اور شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے واضح اور دوٹوک موقف ہے پشتون قوم پرستی پر مبنی بیانیے یا پاکستان کی پالیسی کے اندر تقسیم کے دعوے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کریں گے افغان طالبان کے اندر کچھ عناصر ایسے بھی ہیں جو پاکستان سے ٹکرائو نہیں چاہتے لیکن ایک مضبوط گروہ ایسا ہے جسے بیرونی امداد حاصل ہے اور جس کا کام دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھانا تیسرے مذاکراتی دور کے استنبول اجلاس کی تفصیلات بتاتے ہوئے طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان دونوں ممالک کی ثالثی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پیشرفت کا انحصار کابل پر ہے جو پاکستان کی سب سے بڑی تشویش افغان سرزمین پر ٹی ٹی پی’ بی ایل اے اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی موجودگی ہے،، دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے پاکستان کے دوٹوک فیصلے سے افغانستان کو آگاہ کیا ہے کہ اگر افغان عبوری حکام چاہتے ہیں کہ پاکستان افغانستان سے تجارت دوبارہ شروع کرے تو افغانستان کو افغانستان سے دہشت گردوں کو پناہ گاہیں فراہم کرنے سے انکار اور اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ کرنے کی یقین دہانی کے ساتھ ساتھ ٹی ٹی پی’ بی ایل اے اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے خاتمہ کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا اس اقدام سے پاکستان افغانستان کے ساتھ تجارتی تعلقات بحال ہو سکتے ہیں، وزارت خارجہ کے ترجمان کی جانب سے واضح کئے جانے کے بعد افغان عبوری حکومت کو چاہیے کہ وہ دونوں ملکوں کے تجارتی ودیگر تعلقات بحال کرنے کیلئے مثبت ردعمل کا مظاہرہ کرے تاکہ دونوں برادر ہمسایہ ممالک کے درمیان دوریاں ختم اور دوستی کی فضا پھر سے قائم ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں