دہشتگردی کے خاتمہ کیلئے قومی اتفاق رائے سے ایکشن پلان بنایا جائے،لیاقت بلوچ

فیصل آباد(سٹاف رپورٹر )جماعت اسلامی کے مرکزی نائب امیرلیاقت بلوچ نے کہاہے کہ قومی قیادت کے سامنے ملک میں امن و امان کی بحالی اور دہشت گردی کا خاتمہ سب سے بڑا چیلنج ہے،دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے قومی اتفاقِ رائے سے ازسرنو قومی ایکشن پلان بنایا جائے اور مکمل غیرجانبداری سے اس پر عملدرآمد کیا جائے ، عوام کے جان، مال، عزت کے تحفظ کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومتیں سکیورٹی فورسز کے ساتھ ایک پیج پر لائی جائیں۔ پاکستان میں دہشت گردی کا گریٹ پلان امریکی، اسرائیلی اوربھارتی گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے۔ حکومت خطہ میں پائیدار امن کیلئے افغانستان اور ایران سے تعلقات کو مضبوط اور بااعتماد بنائے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے مقامی راہنمااسامہ غلام غوث کی رہائش گاہ پرافطارڈنرسے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر ضلعی امیرمحبوب الزماںبٹ،سردارظفر حسین، انجینئرعظیم رندھاوا،رائے اکرم کھرل بھی موجودتھے۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ جعفرایکسپریس کا دلسوزواقعہ پاکستان دشمنوں کا قومی سلامتی پر بہت بڑا حملہ ہے ۔ قومی تعصبات پر مبنی گروہوں کے غصہ اور ردۖعمل کو دشمن استعمال کررہا ہے، جِس سے عام آدمی کی جان، مال، عزت اور سفر کے لیے شاہراہوں اور ریل کا سفر غیر محفوظ بنا دیا گیا ہے جبکہ چیک پوسٹوں پر عام آدمی کی تذلیل کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ قومی قیادت، جمہوریت کی دعویدار جماعتیں قومی ترجیحات کا تعین کریں اور قومی ڈائیلاگ کے ذریعہ میثاقِ نفاذِ آئین کریں اور قوم سے عہد کیا جائے کہ اس سے کوئی بھی انحراف نہیں کرے گا۔ میثاقِ نفاذِ آئین کی بنیاد پر پارٹیاں اپنی اپنی سطح پر سیاسی جمہوری جدوجہد کریں۔انہوں نے کہاکہ ماہ رمضان میں پاکستان کو آزادی کی نعمت عطا ہوئی۔ پاکستان کی بقاء و استحکام اور ترقی کا ہر پہلو آئین کے نفاذ اور قرآن و سنت کے نظام کے ساتھ وابستہ ہے۔ قیامِ پاکستان کے مقاصد اور اسلامی نظریہ حیات کی بنیادوں سے انحراف نے ملک و مِلت کو سیاسی، جمہوری، معاشی اور امن و یکجہتی کے بحرانوں سے دوچار کردیا۔ قومی قیادت کو اجتماعی توبہ کے ساتھ ساتھ ملک میں گہرے سیاسی بحرانوں کو حل کی منزل کی طرف لانا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں