89

دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کا فیصلہ (اداریہ)

قومی سلامتی کمیٹی کا دہشت گردوں کا نیٹ ورک توڑنے’ لاجسٹک سپورٹ ختم کرنے کا فیصلہ’ مشترکہ اعلامیہ کے مطابق کوئی فرد یا ادارہ یا گروہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کمزوری نہ دکھائے، سپیکر قومی اسمبلی کی سربراہی میں ہونیو الے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں طے کیا گیا کہ پاکستان کو نرم نہیں سخت گیر ریاست بنائیں گے، آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا کہ ملکی سلامتی سے کوئی بڑا ایجنڈا نہیں، قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف سید عاصم منیر نے مزید کہا کہ ہماری اور ہماری آنے والی نسلوں کی بقاء کی جنگ ہے انہوں نے علماء سے درخواست کی کہ وہ خوراج کی طرف سے اسلام کی مسخ شدہ تشریح کا پردہ چاک کریں جنرل سید عاصم منیر نے کہا کہ اگر یہ ملک ہے تو ہم ہیں لہٰذا ملک کی سلامتی سے بڑھ کر ہمارے لئے کوئی چیز نہیں پاکستان کے تحفظ کیلئے یک زبان ہو کر اپنے سیاسی اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر ایک بیانیہ اپنانا ہو گا ہمیں اﷲ تعالیٰ کی ذات پر پورا بھروسہ ہے جو کچھ بھی ہو جائے انشاء اﷲ ہم کامیاب ہوں گے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس سے وزیراعظم شہباز شریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی ملک کیلئے ناسور بن گئی اس کا دیرپا اور پائیدار حل نکالنا ہے انہوں نے کہا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم متحد ہے سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا کہ افسوس ہے کہ اپوزیشن نے اجلاس میں شرکت نہیں کی، ہمیں ملکر ملک کو مسائل سے نکالنا ہے، بلاول بھٹو’ فضل الرحمان’ خواجہ آصف’ رانا ثناء اﷲ’ محمد اورنگزیب’ احسن اقبال’ یوسف رضا گیلانی’ فیصل واوڈا’ خالد صدیقی’ جام کمال’ وزیراعظم آزاد کشمیر اور وزیراعلیٰ گلگت بلتستان’ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ’ گورنرز’ آئی جی پولیس بھی اجلاس میں شریک ہوئے وزیراعلیٰ KP علی امین گنڈاپور نے باہمی بداعتمادی ختم کر کے ایک دوسرے پر بھروسہ بڑھانے کا مشورہ دیا وفاقی کابینہ کے 38 ارکان بھی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہوئے پیپلزپارٹی کے 16ارکان پارلیمنٹ بلاول بھٹو کی زیرقیادت اجلاس میں شریک ہوئے، قومی سلامتی کمیٹی اجلاس نے دوران آرمی چیف سید عاصم منیر اور ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز نے کمیٹی کے شرکاء کو بریفنگ دی پارلیمانی کمیٹی کو بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی بلوچستان میں عسکریت پسندوں اور دہشت گرد تنظیموں کی کارروائیوں سے آگاہ کیا گیا آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے 50منٹ اور ڈی جی ملٹری آپریشنز نے 30منٹ بریفنگ دی’ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ دہشت گردی اہم قومی مسئلہ ہے جس میں اگر مگر کی گنجائش نہیں دنیا کو بھی افغان حکومت کے کردار سے آگاہ کرنا ہو گا اپنی خارجہ پالیسی کو مزید مؤثر بنانا ہو گا،، قومی سلامتی کمیٹی کے ان کیمرا اجلاس میں وزیراعظم’ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر اور اہم سیاسی شخصیات کا ملک کو دہشت گردوں سے پاک بنانے کا عزم قابل تعریف ہے اس وقت افغانستان دہشتگردوں کی آماجگاہ بن چکا ہے اور یہ دہشت گردی پاکستان میں افراتفری پیدا کرنے میں مصروف ہیں بدقسمتی سے ہمارے ملک میں موجود افغان باشندے دہشت گردوں کے سہولت کار بنے ہوئے ہیں ان باشندوں کا بھی پتہ لگانا ضروری ہے علاوہ ازیں افغانیوں کو ملک بدر کرنے میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے کیونکہ پاکستان کی طرف سے افغان مہاجرین کیلئے نرم گوشہ رکھنے کا رویہ ترک کرنا ہو گا اتنے سالوں سے پاکستان افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے مگر پاکستان کے لیے افغانیوں کے اندر وفا موجود نہیں اور یہ جب بھی موقع ملتا ہے ڈنک مارنے سے باز نہیں آتے دنیا کو بھی افغان حکومت کے کردار سے آگاہ کرنا ہو گا دنیا خود کو اس خطے سے الگ تھلگ نہیں رکھ سکتی پوری قوم کو پاکستان سے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے سیاسی وعسکری قیادت کے ہاتھ مضبوط کرنا ہوں گے سوشل میڈیا پر فیک نیوز اور اہم اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والوں کے گرد گھیرا تنگ کئے بغیر اس میڈیا پر قابو پانا ناممکن ہے روز کوئی نہ کوئی دہشت گردی کا واقعہ ملک میں ہو رہا ہے اب ریاست کو فیصلہ کن اقدام کرنا ہوں گے بلوچستان کے بارے میں بھارتی میڈیا پر جس قسم کا پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے اس کا توڑ نکالنا بھی ضروری ہے ہمارے میڈیا کو بھارت کا چہرہ دنیا کو دکھانا ہو گا کہ وہ پاکستان کو عدم استحکام اور ناکام ریاست ثابت کرنے کیلئے میڈیا کا سہارا لے رہا ہے دہشت گردوں کی سرپرستی کر کے پاکستان میں افراتفری پھیلا رہا ہے دشمن نے ہمیں مختلف محاذوں پر الجھا رکھا ہے ہمیں بھارت کے پروپیگنڈہ کا مؤثر جواب دینا ہو گا قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے لہٰذا اب دہشت گردوں ان کے سہولت کاروں کیخلاف کاری وار کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ملک کو ان سے پاک کیا جا سکے امید ہے سیاسی وعسکری قیادت اس سلسلے میں جلد ہی کوئی طریقہ کار اپنائے گی جس کے بعد پاکستان کی سلامتی کیلئے خطرہ بننے والوں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں