دہشت گردی پر سمجھوتہ ہرگز نہیں ہو گا (اداریہ)

وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اسلام آباد اور وانا حملے کرنے والے افغانستان سے آئے، ہمارے مقامی ملوث نہیں’ فیلڈ مارشل آرمی چیف عاصم منیر نے افغانستان کو کئی بار پیغام بھجوایا کہ دہشتگردی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا گزشتہ روز کیڈٹ کالج وانا کے دورہ کے موقع پر آئی جی فرنٹیر کور KP کے ساتھ میجر جنرل مہر عمر خان نے ان کا خیرمقدم کیا وزیرداخلہ نے خارجی دہشتگردوں کا حملہ ناکام بنانے، کیڈٹس اور ٹیچرز کو ریسکیو کرنے والے افسروں وجوانوں سے ملاقات کی اور ان کی جرأت اور پیشہ وارانہ مہارت کو سراہا وزیرداخلہ کو خارجی دہشتگردوں کا حملہ ناکام بنانے اور تمام طلبہ وٹیچرز کو بحفاظت وہاں سے نکالنے پر بریفنگ دی گئی۔ محسن نقوی نے کہا یہ اصل میں دہشتگرد نہیں درندے ہیں جن کا انسانیت سے کوئی تعلق نہیں کوئی بھی مذہب بچوں کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دیتا ان درندوں کا کوئی مذہب نہیں ان کو انسان کہنا انسانیت کی توہین ہے پاک فوج اور ایف سی نے طلبہ اور ٹیچرز کو بحفاظت ریسکیو کر کے بہادری اور پیشہ وارانہ ازم کی مثال قائم کی، دشمن APS جیسی کارروائی کرنا چاہتا تھا لیکن ہمارے دلیر جوانوں نے خواجیوں کو جہنم واصل کر کے سازش ناکام بنائی دریں اثناء وانا میں قبائلی عمائدین سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کہہ چکے ہیں دہشتگردوں سے بات نہیں ہو گی، دہشتگرد اسلام کے مخالف کام کر رہے ہیں ہم کسی بھی قسم کی دہشتگردی کی حمایت نہیں کرتے قبائلی عمائدین کا کہنا تھا کہ ہم ٹی ٹی پی کو نہیں مانتے’ پاک فوج دن رات ہماری حفاظت کیلئے قربانیاں دے رہی ہے وانا کے غیرت مند لوگ کسی بھی دہشت گرد کا ساتھ نہیں دیتے، وانا کیڈٹ کالج پر حملہ اسلام آباد کچہری اور پاکستان کے مختلف شہروں میں دہشت گردی کی حالیہ لہر ایک بار پھر یہ سوال اٹھاتی ہیں کہ آخر ہزاروں جانوں کی قربانیوں کے باوجود یہ آگ بھجنے کا نام کیوں نہیں لیتی راکھ میں دبی چنگاریوں کو کون ہوا دے رہا ہے کیا یہ سب بیرونی سازشوں کا شاخسانہ ہے یا یہ ہمارے ماضی کی غلطیوں کی سزا ہے جو آج ہم بھگت رہے ہیں پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کے ساتھ بھائی چارے اور برادرانہ تعلقات کی بات کی لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس بھائی چارے کے جواب میں ہمیں اکثر دشمنی’ بداعتمادی الزام تراشی ودشنام طرازی ملی پاکستان نے لاکھوں افغانیوں کو اپنے ملک میں پناہ دی ان کے بچوں پر تعلیم کے دروازے کھولے روزگار دیا لیکن آج یہی سرزمین ہمیں دشمن سمجھنے پر تلی ہوئی یہ المیہ ہے کہ جس ملک نے انسانیت کی بنیاد پر ہاتھ بڑھایا اس کے ہاتھوں میں بارود تھما دیا پاکستان کے سکیورٹی اداروں نے دہشت گردی کے خلاف بے مثال جنگ لڑی آپریشن ضرب عضب سے لیکر ردالفساد تک ہزاروں جوانوں نے جانوں کے نذرانے پیش کئے تاکہ یہ سرزمین محفوظ ہو مگر دشمن کی چالیں ختم نہیں ہو رہیں افغانستان کی سرزمین آج بھی پاکستان مخالف تنظیموں کیلئے محفوظ پناہ گاہ بنی ہوئی ہے اور وہاں سے دہشت گرد پاکستان میں آ کر دہشت گردی کر رہے ہیں افغانستنا بھارت کے ساتھ راہ وسم بڑھا رہا ہے اور پاکستان سے مخالفت مول لے رہا ہے حالانکہ افغانستان کو بخوبی علم ہے کہ وہ پاکستان سے دشمنی لیکر اپنے لئے کانٹے بچھا رہا ہے بھارت کبھی بھی افغانیوں کا بھلا نہیں سوچ سکتا اسے صرف اپنے مفاد کی فکر ہے اور وہ چاہتا ہے کہ جو زخم پاکستان نے معرکہ حق میں اس کو دیئے ان کا بدلہ لیا جائے افغان طالبان حکام بھارتی آلہ کار بن کر پاکستان سے ٹکر لینے کیلئے سوچ رہے ہیں مگر شائد افغانیوں کو یہ علم نہیں کہ پاکستان سے ٹکرانا ان کیلئے آسان نہیں بہتر یہی ہے کہ افغانستان پاکستان کے ساتھ دشمنی مول لینے کا کبھی بھول کر بھی نہ سوچے اس کیلئے اسی میں بہتری ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات بحال کرے اور اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے ٹی ٹی پی بی ایل اے سمیت دہشتگرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کے بجائے ان کے خلاف کارروائی کرے، پاکستان فتنہ الہندوستان’ خوارجیوں بی ایل اے’ ٹی ٹی پی اور دیگر دہشتگردوں کا خاتمہ کرنے کیلئے ایک لمحہ کی تاخیر نہیں کرے گا پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے والوں کے ساتھ کو رعایت نہیں کی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں