93

دہشت گردی کو شکست دینے کیلئے قومی یکجہتی ناگزیر (اداریہ)

بلوچستان کے اضلاع قلات اور نوشکی میں دہشت گردی کے نتیجہ میں 4پولیس اہلکار اور 4مزدور شہید ہو گئے پولیس حکام کے مطابق نوشکی کے علاقے غریب آباد کے قریب پولیس موبائل پر حملہ اس وقت ہوا جب وہ گشت کر رہی تھی جبکہ اسسٹنٹ کمشنر منگچر علی گل کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے منگچر کی منگ زئی میں ٹیوب ویل کی تنصیب پر کام کرنے والے 4مزدوروں پر فائرنگ کی جس کے نتیجہ میں چاروں افراد شہید ہو گئے مزدوروں میں سے 3کا تعلق پنجاب کے ضلع صادق آباد جبکہ ایک کا تعلق رحیم یار خان سے ہے چاروں مزدور خضدار میں بورنگ کا کام کرنے کیلئے گئے تھے وزیراعظم شہباز شریف نے قلات اور نوشکی میں دہشت گردوں کی جانب سے 4پولیس اہلکاروں اور 4مزدوروں پر فائرنگ کی مذمت کی اور واقعے میں شہید افراد کی بلندی درجات کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ غم کی اس گھڑی میں ہم شہداء کے ساتھ ہیں وزیراعلیٰ بلوچستان نے بھی نوشکی میں پولیس موبائل پر حملے اور قلات میں مزدوروں کو قتل کرنے کی مذمت کی اور کہا کہ پولیس اہلکاروں اور مزدوروں کا خون رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا خون بہانے والوں کو بلوچستان میں چھپنے نہیں دیں گے،، بلوچستان میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اس بات کا تقاضا کر رہے ہیں کہ دہشتگردوں کیخلاف بے رحمانہ آپریشن کیا جائے، دہشتگردی کی بتدریج بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے باعث آج ملک حالت جنگ میں ہے چنانچہ ملک کی سلامتی کے تحفظ اور شہریوں کی حفاظت کیلئے سکیورٹی فورسز کا ہمہ وقت الرٹ رہنا ناگزیر ہے پاکستان میں سفاکانہ دہشتگردی کے ذریعے بدامنی پھیلانے والے خوراج اور علیحدگی پسندوں کو ہمارے ازلی دشمن بھارت کی مکمل سرپرستی حاصل ہے جو کابل کی طالبان انتظامیہ کے ساتھ ملی بھگت اور اسکی معاونت سے اپنے تربیت یافتہ دہشتگردوں کو اسلحہ اور گولہ بارود سمیت افغان سرحد سے پاکستان میں داخل کرتا ہے جن کا نیٹ ورک افغانستان میں ہی ہوتا ہے اور وہ ان کے ساتھ دہشتگردی کی ہر واردات کے دوران مسلسل رابطے میں رہتے ہیں اور ہدایات حاصل کرتے رہتے ہیں جعفر ایکسپریس کے سانحہ کے حوالے سے ہمارے سکیورٹی اداروں نے حملے کے دوران دہشتگردوں کے افعانستان میں موجود سہولت کاروں اور ان کے ماسٹر مائنڈ سے رابطے میں رہنے اور ہدایات لینے کے ناقابل تردید ثبوت حاصل کئے ہیں پاکستان کی تاریخ میں اگرچہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے جس میں دہشت گردوں نے کوئی مسافر بردار ٹرین ہائی جیک کر لی ہوتا ہم یہ امر بھی نہایت قابل تحسین ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج نے بالخصوص ایس ایس جی کمانڈوز نے اپنی شاندار روایات کو قائم رکھتے ہوئے نہ صرف دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا بلکہ مسافروں کو بھی بازیاب کروانے میں کامیاب رہے سوشل میڈیا پر جس طرح منفی پروپیگنڈہ مہم چلائی گئی یہ افسوسناک اور فکرانگیز ہے کیونکہ یہی ادارہ ملک پر آنیوالی ہر افتاد میں ہر اول دستے کا کردار ادا کرتا ہے اور شہریوں کے تحفظ کیلئے اپنی جانوں کی پرواہ نہیں کرتا ہمیں بحیثیت پاکستانی اپنی افواج اور سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے ہونا چاہیے اور ملک دشمن عناصر سے ہر صورت خبردار رہنا چاہیے جو پاکستان کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھنا چاہتے افغانستان کا پاکستان کیخلاف بھارتی دہشتگردی میں استعمال ہونا کوئی نئی بات نہیں سوائے طالبان حکومت کے پہلے دور کے، کہ اس وقت طالبان قیادت کے پیش نظر شریعت اور دین کے احکامات تھے اب ایسے عناصر طالبان حکومت میں شامل ہو چکے ہیں جن کے مفادات عالمی استعمار کی پالیسیوں سے منسلک ہیں افغان حکومت کی صفوں میں موجود استعمار دوست اور امن دشمن عناصر صرف پاکستان نہیں خود افغانستان بلکہ افغان طالبان کے بھی دشمن ہیں پاکستان کے دشمن بھارت نے افغان طالبان کو پاکستان میں بدامنی پھیلانے کی جو مذموم کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں اور مسلسل دہشتگردی کے حملوں میں دہشت گردوں کو سپورٹ کر رہا ہے ان کیخلاف لازم ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جائے اور جو بھی دہشتگردوں کی سہولت کاری میں ملوث پایا جائے اسے کوئی رعایت نہ دی جائے جو عناصر دہشتگردوں کو واپس لانے میں ملوث رہے ہیں ان کا بھی احتساب کیا جانا ضروری ہے دہشتگردی کو شکست دینے کیلئے قومی یکجہتی ضروری ہے اس حوالے سے سیاسی قیادت کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کیلئے ہر ممکن طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں