45

دہشت گردی کی نئی لہر خطرناک قرار (اداریہ)

بلوچستان میں پاکستان کے دشمنوں کی سرگرمیاں بڑھتی جا رہی ہیں صوبہ کے متعدد اضلاع میں گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران دہشت گردی کے پے درپے واقعات میں سکیورٹی فورسز کے 14جوانوں سمیت 54افراد شہید ہو گئے فورسز کی جوابی کارروائی سے 21دہشت گرد مارے گئے، دہشت گردوں نے موسیٰ خیل میں 23مسافروں پر گولیاں برسا دیں قلات’ پنجگور’ تربت’ مستونگ’ بیلہ گوادر اور کوئٹہ میں بھی دہشت گردوں کے حملے بولان میں انگریز دور کا ریلوے پل دھماکے سے تباہ کر دیا گیا جس سے پنجاب سندھ کیلئے ریل سروس معطل ہو گئی پنجاب جانے والی گیس پائپ لائن دھماکے سے تباہ معدنیات لے جانے والی 10سے زائد جلا دی گئیں ایک اور واقعہ میں ضلع قلات کے علاقے مہیلی میں مسلح افراد کی فائرنگ سے پولیس اور لیویز اہلکاروں سمیت 10افراد جاں بحق ہو گئے دہشت گردوں کی فائرنگ سے اے سی قلات بھی زخمی’ مسلح افراد کا رات گئے لیویز تھانے پر حملہ فائرنگ کے تبادلہ کے بعد ملزمان فرار’ مستونگ میں لیڈیز لیویز تھانے پر مسلح افراد نے حملہ کر کے متعدد گآڑیاں نذر آتش کر دیں تھانے کا ریکارڈ جلا دیا علاقہ میں خوف وہراس’ سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خلاف سرچ آپریشن شروع کر دیا،، آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں نے بلوچستان میں کئی سنگین کارروائیاں کرنے کی کوشش کی دشمن اور مخالف قوتوں کے اشارے پر یہ بزدلانہ دہشت گردی کے واقعات ہوئے، صدر آصف علی زرداری’ وزیراعظم شہباز شریف’ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے دہشت گردی کے واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کسی صورت قبول نہیں ذمہ داروں کو کیفرکردار تک پہنچائیں گے بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات کے بعد پوری قوم تشویش میں مبتلا ہے اور سیاسی وعسکری قیادت سے اپیل کر رہی ہے کہ صوبہ بلوچستان کو دہشت گردی سے پاک کرنے کیلئے دہشت گردوں ان کے سہولت کاروں کے خلاف بے رحم آپریشن کیا جائے،، وطن عزیز اس وقت سیاسی عدم استحکام معاشی ابتری اور قدرتی آزمائشوں کے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے ایران جانے اور وہاں سے واپس آنے والے زائرین اور اندرون ملک سفر کرنے والوں کی کوچز اور گاڑیوں کے اندوہناک حادثات نے کئی گھروں میں صف ماتم بچھا دی ابھی ان صدمات کے اثرات جاری تھے کہ بلوچستان کے کئی اضلاع میں دہشت گردوں نے سکیورٹی فورسز کے 14جوانوں سمیت 54شہریوں کو شہید کر دیا موسی خیل’ قلات’ مستونگ’ بولان کے علاقوں میں تحزیب کارانہ کارروائیوں کے ذریعے انسانی جانوں کا خون بہایا سب سے المناک واقعہ موسی خیل کے علاقہ راڑہ شم میں پیش آیا جہاں قومی شاہراہ کی ناکہ بندی کر کے دہشت گردوں نے پنجاب سے آنے والی بسوں کو روکا اور ان میں سے 23 کو گولی مار دی، سکیورٹی فورسز نے 21دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا ہے اور ابھی تک آپریشن جاری ہے دہشت گردوں کے قبضہ سے نائٹ ویژن کیمرے اور جدید اسلحہ برامد ہوا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ انہیں کسی بیرونی طاقت کی معاونت حاصل ہے جس کا مقصد پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے علاوہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کو سبوتاژ کرنا ہے سارے حملے رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسے وقت میں کئے گئے جب سکیورٹی فورسز اور ان کے معاون قانون نافذ کرنے والے ادارے قومی ایکشن پلان اور عزم استحکام پاکستان پروگرام کے تحت ملک دشمن عناصر کی بیخ کنی کیلئے صف آراء ہیں اور پوری قوم ان کی پشت پر ہے لیکن ایسے عناصر بھی موجود ہیں جو ملک کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے ان اقدامات کی راہ میں روڑے اٹکا رہے ہیں یہ بات کوئی راز نہیں کہ پاکستان دشمن قوتیں بھی ان کی مدد کر رہی ہے دہشت گردوں کے اصل ٹھکانے افغانستان میں ہیں جہاں سے وہ پاکستان میں کارروائیاں کرتے ہیں، بلاشبہ مقامی تحزیبی عناصر کو بھی وہ اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں، یہ سیاسی جماعتوں سمیت تمام مکاتب فکر کے لوگوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے،ہماری اپنے ملک کے سیاستدانوں سے اپیل ہے کہ وہ ملک وقوم کی خاطر اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ملک سے دہشت گردی سمیت ہر طرح کی منفی سرگرمیوں کو روکنے کیلئے اپنی توانائیوں کو پوری سنجیدگی کے ساتھ بروئے کار لائے تاکہ ملک کو پرامن اور عوام کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے بلوچستان میں پے درپے دہشت گردی کے واقعات پر پوری قوم افسردہ ہے اور امید کرتی ہے کہ ہماری سکیورٹی فورسز ملک کو دہشت گردوں کے پاک کر کے دم لے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں