ذہانت اور مصنوعی ذہانت۔۔باہمی تعلق

اختصار سے گفتگو ذہانت کا جوہر ہوتی ہے اس مرحلہ پر یقینی طور پر سوال ابھرے گا کہ پھر ذہانت کیا ہے۔ ذہانت اصل میں عقل کی وہ صلاحیت یاخاصیت ہوتی ہے جس کی مدد سے وہ کسی بات یا تجربے کا ادراک اور فہم کرسکتی ہے یعنی اس کو سمجھ سکتی ہے۔اس سمجھ بوجھ کے عمل میں بہت سی ذہنی خصوصیات شامل ہوتی ہیں جس میں سبب، منصوبہ اور تجرید وغیرہ شامل ہیں۔ ماہرین نفسیات کے مطابق ذہانت صرف اکیڈمک ریکارڈ نہیں بلکہ کثیر جہتی صلاحیت ہے اس کی چار بنیادی اقسام ہیں۔ ذہنی صلاحیت ( اینٹلیجنٹ کوشنٹ)IQ,جذباتی ذہانت (ایموشنل کوشینٹ EQ),روحانی ذہانت (سپیرچوئیل کوشینٹSQ),مشکلات کا سامنا کرنیکی صلاحیت( ایڈورسٹی کوشینٹ AQ) چاروں اقسام شخصیت کی تعمیر، کامیابی اور جذباتی استحکام میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ مصنوعی ذہانت یا اے آئی (آرٹیفیشل اینیلیجنس) ایک ایسی شاخ ہے جو کمپیوٹر سائنس اور مشینیات کے میدان میں انسانی ذہانت کے اصولوں کو نقل کرتی ہے یہ ٹیکنالوجی مشینوں کو ایسی صلاحیت فراہم کرتی ہے جو انسانوں کی مانند سوچ سکے، مسائل کا حل نکال سکے اور فیصلہ کر سکے۔ بات اختصار سے گفتگو سے شروع ہوئی اور مصنوعی ذہانت تک پہنچ گئی۔ بات کہاں سے شروع ہوئی اور کہاں تک پہنچ گئی۔ مختصر بات گویا کہ سمندر کو کوزے میں بند کردینا اور اس کے علی الرغم بات کا بتنگڑ بھی بن سکتا ہے اور رائی کا پہاڑ بھی بن سکتا ہے۔ شاید ہمارے ہاں ذہانت کا شعوری احساس تو تھا لیکن ہم نے ذہانت کے جملہ پہلوں کو اپنی یوتھ پر واضح نہیں کیا ہے یہی وجہ ہے کہ ان میں سے کچھ تو واقعی ذہین دکھائی دیتے ہیں یعنی چیزیں دیکھ بھال کر کرتے ہیں۔ کچھ جذباتی ہو گئے بلکہ کافی سارے جذباتی ہو گئے۔ ان میں سے بھی کچھ ابا تبا بولنا شروع ہوگئے، کچھ نے اوٹ پٹانگ فیصلے کرنا شروع کردئیے اور کچھ اس حد تک جذبات کی رو میں بہہ گئے کہ جنون، جنون اور جنون بلکہ منفی سوچ اور پھر مرنا مارنا۔ کچھ نے روحانیت کی دنیا میں گم ہو جانے میں خیر سمجھی یعنی عملی زندگی سے راہ فرار( میں کھٹکتا ہوں دل یزداں میں کانٹے کی طرح۔۔۔تو فقط اللہ ہو اللہ ہو اللہ ہو) ہاں کچھ ایسے بھی ہیں جنہوں نے مشکلات کا سامنا کیا اور خوب کیا۔ ایک دانشور نے کیا خوب کہا ہے کہ adversity is true schoolof greatness.گویا کہ مشکلات کا سامنا کرنیوالے ہی عظیم ہوتے ہیں۔ مختصرا ذہن کے استعمال کو ذہانت کہتے ہیں اس بات کا شعوری اور فکری احساس بیدار کرنے کی ضرور ت ہے اور اب جبکہ سائنس کی دنیا میں ون پونے انقلاب آگئے ہیں اور ہر اگلے روز سائنس کی دنیا کا ایک نیا باب کھلتا ہے۔ کائنات کی پرتیں ایک ایک کر کے ہمارے سامنے آ رہی ہیں اور انسان ہی یہ کام کرنے میں اہم کردار ادا کررہا ہے اور انسان ہی یہ سارا کچھ دیکھ کر حیرت زدہ ہورہا ہے۔ انسان ہی جذباتی بھی ہو رہا ہے اور انسان آہستہ آہستہ حقیقت کے قریب ہورہا ہے۔ ایجادات سے یقیننا مشکلات بھی پیدا ہورہی ہیں۔ جنگ وجدل، حادثات اور کیا کیا کچھ۔ انسان میں تو مشکلات کا سامنا کرنے کی بھی صلاحیت ہے اور اب تو مصنوعی ذہانت کا ایک نیا دور اور اب انسان نے اس کے ساتھ باہوں میں باہیں ڈال کر چلنا ہے اور کائنات ارض وسما کے معاملات کو ایک نئے انداز سے بنانا اور سنوارنا ہیکائنات کو اگر ایک خلیہ مان لیا جائے تو انسان بنیادی طور پر کائنات میں نیو کلیس کی حیثیت رکھتا ہے اور کائنات کا سارا نظام انسان کے گرد گھومتا ہے۔ ذہانت کا تعلق بھی بلاواسطہ انسان سے ہے اور ذہانت کی اقسام کا بالواسطہ یا بلاواسطہ دونوں لحاظ سے تعلق بھی انسان سے ہے۔ قرآن مجید نے بہرحال مختلف جگہوں پر انسان کے بارے میں وضاحت کردی ہے۔ ایک جگہ ارشاد ہوتا ہے کہ انسان جلدباز ہے۔ ایک اور جگہ ارشاد ربانی ہے کہ انسان گھاٹے( خسارے) میں ہے۔ اللہ تعالی نے تو الکتاب میں یہ بھی فرما دیا کہ انسان ناشکرا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس انسان کو خلیفہ بھی قرار دیا اور اشرف المخلوقات بنا دیا۔ یہ انسان کے مختلف پہلو اور پھر دماغ کے استعمال میں انسان خودمختار۔ ہر نئے آنے والے دن نئی نئی ایجادات اور ون پونے رولے گھولے۔ بات سمجھنے کی ہے اور ( سمجھ سمجھ کے بھی جو نہ سمجھے میری سمجھ میں وہ ناسمجھ ہے) جہالت اور عجلت انسان کو نہ جانے کیا کچھ کرنے پر مجبور کر دیتی ہیں اور جب وہ اپنے آپ کو مجبور محض مان لیتا ہے تو پھر ڈیڈلاک/ بندگلی۔ یہ ایک اور پہلو ہے جس کے نتیجے میں انسان ٹھہرا لکیر کا فقیر حالانکہ اس نے تو تسخیر کائنات کا خواب دیکھا ہے اور اس خواب کی تعبیر کا تعلق بھی انسان کے فعال اور متحرک کردار سے ہے اور آج تک اس نے کم وبیش اپنا کردار ضرور ادا کیا ہے اسی لئے تو بات مصنوعی ذہانت تک آگئی ہے اور کون اس حقیقت سے انکار کر سکتا ہے کہ مذکورہ ذہانت کا بھی تو کوئی موجد ہے۔ نام جو بھی ہے سو ہے وہ بھی انسان ۔ کہتے ہیں کہ ڈاکتر جیفری ہنٹن مصنوعی ذہانت کا بانی تصور کیا جاتا ہے۔ مصنوعی ذہانت سے کچھ بھی کیا جا سکتا ہے۔ تاحال چیٹ جی پی ٹی جدید ترین شکل اور آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔ فوائد اور نقصانات دونوں صورتیں۔ بسا اوقات فوائد نقصانات میں اور نقصانات فوائد میں تبدیل ہونے کا بھی امکان ہوتا ہے اور یہی ایک اور پہلو سے انسان کا کردار ہے جس کے بارے میں حضرت انسان کو آگاہ کرنا ضروری ہے بلکہ اس بات کی حساسیت کے بارے میں اس کو بتانا بہت ہی ضروری ہے۔ نقصانات کی بھی لمبی چوڑی فہرست ہے جس کا بعد میں بانی متذکرہ بالا کو احساس ہوا اور اس کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے۔ اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ مثبت پہلو پر بات کرنا ہی حکمت ودانائی ہوتی ہے اور منفیت کو اثبات میں تبدیل کرنا ہی انسانیت کی معراج ہے۔ ویسے بھی ہر چیز کے کئی کئی استعمال ہوتے ہیں۔ کائنات کو خوبصورت بنانا انسان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ افسوس ہم افراط وتفریط کا شکار ہونے والے انسان ہیں(وہی قاتل وہی شاہد وہی مشہود ٹھہرے)۔ ان سارے حقائق کے باوجود دریا الٹے رخ نہیں چلتے ہیں۔ بات نے آگے بڑھنا ہے اور انسان نے ہی اس کہانی کو آگے بڑھانا ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب کو مصنوعی ذہانت کے فائدے اور نقصانات کا پورا علم ہونا چاہیئے اور اپنی ذہانت سے ہم سب کو اس کے نقصانات سے بچنے کی تدبیر کرنا ہو گی اورکائنات کو ان نقصانات سے بچانے کے لئیذہن کو ایک نئے انداز سے استعمال کرنا ہوگا اور ذہانت اور مصنوعی ذہانت ساتھ ساتھ چلیں اور کائنات کو شر سے بچایا جا سکے اور کار خیر سے جہان رنگ وبو کو مزید خوبصورت بنایا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں