ذیابیطس کے مریضوں میں ایک اور سنگین پیچیدگی کا انکشاف

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) زندگی کس کو پیاری نہیں ہوتی مگر اچھی صحت کے بغیر جینا آسان نہیں ہوتا اور وہ جہنم جیسی لگنے لگتی ہے اور موجودہ عہد میں جو مرض انسانوں کے لیے سب سے زیادہ مہلک ثابت ہو رہا ہے وہ ذیابیطس ہے۔ذیابیطس وہ مرض ہے جو دیمک کی طرح خاموشی سے انسانی جسم کے اندرونی اعضا کو چاٹ جاتا ہے اور اگر اس کے بارے میں بروقت معلوم نہ ہوسکے تو یہ بینائی سے محرومی سے لے کرگردوں کے فیل ہونے اور دیگر لاتعداد طبی مسائل کا سبب بنتا ہے۔حیرت انگیز طور پر ذیابیطس ٹائپ ٹو کے بیشتر مریضوں کو اکثر بیماری کا علم ہی نہیں ہوتا۔اب سائنسدانوں نے ایک ایسی علامت دریافت کی ہے جس کا سامنا ہونے پر آپ کو بلڈ شوگر ٹیسٹ کرالینا چاہیے۔مستقبل میں ہارٹ اٹیک یا فالج کا عندیہ دینے والا وہ عنصر جو برسوں قبل جسم کا حصہ بن جاتا ہیاسپین کی بارسلونا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ذیابیطس ٹائپ 2 کے مریضوں کے سننے کی حس متاثر ہوتی ہے۔یعنی اگر اچانک آپ کو سننے کے مسائل کا سامنا ہو رہا ہے تو بہتر ہے کہ شوگر ٹیسٹ کرالیں کیونکہ یہ ذیابیطس ٹائپ 2 سے متاثر ہونے کی نشانی بھی ہوسکتی ہے۔اس تحقیق میں 17 تحقیقی رپورٹس کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گئی تھی جن میں 3910 ذیابیطس کے مریض اور 4084 صحت مند افراد کو شامل کیا گیا تھا۔تحقیق میں دریافت ہوا کہ ذیابیطس ٹائپ 2 کے مریضوں میں حس سماعت سے محروم ہونے کی شرح 40 سے 71 فیصد تک تھی جبکہ صحت مند افراد کے مقابلے میں ان میں یہ خطرہ 4.19 گنا زیادہ ہوتا ہے۔تحقیق میں انکشاف کیا گیا کہ ذیابیطس سے متاثر ہوئے جتنا زیادہ عرصہ گزرے گا، سماعت کے مسائل کا خطرہ اتنا زیادہ ہوگا۔محققین نے بتایا کہ ذیابیطس کے مریضوں میں حس سماعت سے محرومی ممکنہ طور پر اس مرض کی پیچیدگیوں کا نتیجہ ہوتی ہے جس سے اندرونی کان کے افعال متاثر ہوتے ہیں۔اس تحقیق کے نتائج جرنل OtolaryngologyHead and Neck Surgery میں شائع ہوئے۔ہر وہ شخص جس کی عمر 40 سال سے زیادہ ہو اسے اپنا ابتدائی بلڈ شوگر چیک اپ کرالینا چاہیے، اگر نتیجہ نارمل آتا ہے تو ہر ایک سال بعد ایسا کرنا چاہیے۔اگر جسمانی وزن بہت زیادہ بڑھ جائے تو بھی ہر ایک سے 3 ماہ کے اندر بلڈ شوگر لیول چیک اپ کرانا چاہیے جبکہ ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول لیول میں اضافہ، ہر وقت بیٹھے رہنے یا امراض قلب کی صورت میں بھی اس چیک اپ کو عادت بنالینا چاہیے۔اگر پری ڈائیبٹیس کی تشخیص ہوچکی ہے تو ہر سال اس چیک اپ کو عادت بنانا چاہیے۔دوران حمل اگر خواتین میں ذیابیطس کی تشخیص ہوتی ہے تو انہیں ہر تین سال ذیابیطس کی اسکریننگ کرانی چاہیے۔ہر ہفتے اس مزیدار گری کو کچھ مقدار میں کھانا جان لیوا امراض قلب سے بچا سکتا ہے۔ بہت زیادہ پیاس۔بہت زیادہ پیشاب آنا خاص طور پر رات کو۔وزن میں کمی۔جلد پر خارش۔زخم جو معمول کی بجائے بہت دیر سے بھریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں