رمضان المبارک کے آخری عشرے میں شہر میں پیشہ ور بھکاریوں کی بھرمار

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) رمضان المبار ک کے آخری عشرے کے دوران شہر بھر میں پیشہ ور بھکاریوں کی بھرمار’ شہر کے اہم چوراہوں’ مارکیٹو ں اور گلی محلوں میں ٹولیوں کی شکل میں بھیک مانگتے نظر آتے ہیں جن میں بالخصوص خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے’ ضلعی انتظامیہ’ ٹریفک پولیس اور محکمہ سوشل ویلفیئر کے عملہ نے پیشہ ور گداگروں کو پکڑنے کی بجائے چپ سادھ لی’ پیشہ ور گداگر مبینہ طورپر وارداتیں بھی کرنے لگے۔ تفصیل کے مطابق رمضان المبارک کے دوران مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور گداگروں نے فیصل آباد کا رخ کر لیا شہر کے اہم چوراہوں’ سڑکوں’ پارکوں’ بازاروں اور گلی محلوں میں ٹولیوں کی شکل میں بھیک مانگتے ہیں اور شہر کے اکثر ٹریفک سگنلز پر پیشہ ور بھکاری گاڑیوں کے گرد جمع ہو جاتے ہیں اور مختلف آہ وفریاد کر کے شہریوں کی جیبیں خالی کروانے میں مصروف عمل ہیں اور بعض پیشہ ور بھکاریوں نے بیمار’ معذور’ لاچار ہونے کا روپ بھی دھار رکھا ہے اور بالخصوص خواتین نومولود بچوں کو گود میں اٹھائے مختلف واسطے دیکر بھیک مانگتی ہیں۔ صاحب ثروت حضرات کی جانب سے ماہ صیام میں بڑے پیمانے پر خیرات’ زکوٰة’ فطرانہ اور عطیات دینے کی وجہ سے پیشہ ور گداگروں نے منافع بخش کاروبار بنا رکھا ہے اور بازاروں’ مارکیٹوں میں پیشہ ور گداگر خریداری کیلئے آنے والوں کے پیچھے پڑ جاتے ہیں اور خواتین کو ان سے جانا چھڑانا مشکل ہو جاتا ہے جبکہ گلی محلوں اور مساجد کے باہر میں ٹولیوں کی شکل میں بھیک مانگنے پہنچ جاتے ہیں اور اگر شہری ایک کو خیرات دے دے تو تمام گداگر اس کے گھر کے گرد جمع ہو جاتے ہیں جسکی وجہ سے شہریوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے اور بعض بھکاری تو باقاعدہ ریڑھیوں پر سپیکر لگا کر بھیک مانگتے نظر آتے ہیں جبکہ خواتین کی بڑی تعداد نومولود اور شیرخوار بچوں کو گود میں اٹھائے مختلف شاہراہوں پر بھیک مانگتی ہیں اور پیشہ ور گداگر مبینہ طور پر وارداتیں بھی کر رہے ہیں۔ پیشہ ور گداگروں کی غیر معمولی اضافہ کی وجہ سے شہری پریشان ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مخیر حضرات ضرورت مندوں کی مدد ضرور کریں لیکن پیشہ ور بھکاریوں کی حوصلہ شکنی کریں۔ جبکہ پیشہ ور بھکاریوں کی اس تعداد میں اضافہ کی وجہ سے ضلعی انتظامیہ ٹریفک پولیس اور محکمہ سوشل ویلفیئر کی جانب سے رمضان المبارک سے قبل بھکاریوں کے خلاف باقاعدہ مہم چلا کر ان کی پکڑ دھکڑ شروع کی تھی تاہم رمضان المبارک کے دوران خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ شہری حلقوں نے ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ پیشہ ور بھکاریوں کے خلاف فوری کریک ڈائون کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں