روزہ اور مواخات کی عملی شکل

ایک وقت تھا جب دیہاتوں میں بجلی نہیں تھی اور جن شہروں میں بجلی ہوتی تھی وہاں بھی آج والی سہولیات کہاں۔ پنکھا اور بلب تک محدود اور پھر پنکھے اور بلب دونوں کا کوئی دین ایمان نہیں تھا کسی وقت بھی جواب دے جاتے تھے یعنی خراب ہو جاتے تھے۔ کچھ لوگ تو بجلی کے کرنٹ سے بہت ہی خوفزدہ ہوتے تھے کیونکہ ان میں خود کرنٹ نہیں ہوتا تھا میری مراد ہے ایسے لوگ بڑے ہی سادہ لوح اور خوف زدہ تھے۔ ڈرے ڈرے رہتے تھے۔لوڈ شیڈنگ بھی ایک وجہ تھی جس کی وجہ سے بجلی کی آنکھ مچولی چلتی رہتی تھی۔ تاہم یہ وہ زمانہ تھا جب روزہ رکھنا جان جوکھوں کا کام تھا اور والدین تو اولاد کے بارے میں بہت فکر مند تھے کہ کہیں ان کے بچے روزہ رکھنے سے کمزور نہ پڑ جائیں اور اس صورتحال کے پیش نظر “شریکا” مزید طاقتور ہو جائیگا اور پھر “ست اکونجا”۔ یہ وہ وقت تھا جب میرے جیسے آج کے بزرگ لوگ بچپن بلکہ لڑکپن کے ایام گزار رہے تھے۔ ایک دفعہ جون جولائی شدید گرمی کے دن تھے۔ میں سات آٹھ سال کا بچہ تھا اور عقل کا بھی کافی کچا تھا اور پھر رمضان کا مہینہ۔ روزہ رکھنے کا شوق میرے ذہن میں سر پٹ گھوڑے کی طرح دوڑنا شروع ہوگیا۔ ویسے بھی میں نے اپنے بزرگوں پر رشک کیا لیکن کسی نے بھی مجھے بچہ سمجھ کر سحری کے وقت جگانے کے بارے میں نہ سوچا اور پھر سحری کا وقت ختم ہوگیا اور میں سویا ہی رہ گیا۔ بیدار ہونے پر میں نے بھی اللہ کا نام لے کر بغیر کچھ کھائے پیئے روزے کی نیت کرلی اور اپنے ان عزائم کے بارے میں اپنی ماں کو دن کے دس بجے بتایا جب اس نے مجھے ناشتہ کرنے کا حکم دیا۔ پہلے تو میری ماں نے میری خوب کلاس لی تو نے سحری کے وقت کچھ کھایا بھی نہیں ہے تو نے صبح کی نماز بھی نہیں پڑھی ہے تو جانتا ہے کہ کتنا لمبا دن ہوتا ہے اور پھر اوپر سے سورج آگ برسا رہا ہے۔ جب باتیں کرکے ماں تھک گئی تو پھر اس کو روزہ کی اہمیت کی فکر ہوئی اور فرمانے لگیں روزہ ویسے تو بہت ضروری ہوتا ہے اللہ تعالی فرماتے ہیں روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا اجر دیتا ہوں اور اگر تو نے روزہ مکمل کرلیا تو تجھے بہت سارا اجر آج ہی مل جائیگا اور اللہ تو یہ بھی فرماتے ہیں کہ اے ایمان والو میں نے تم پر روزے فرض کئے ہیں جیسے تم سے پہلی امتوں پر فرض کئے تھے تاکہ تم متقی بن جاو۔ میرے لئے متقی کا لفظ بڑا ہی اجنبی تھا لہذا میں نے متقی بننے کی ٹھان لی اور عہد کیا کہ میں آج ہی متقی بن کر دکھاں گا اور پھر ماں نے میرے لئے چند اور ہدایات جاری کردیں اور میرا روزہ ٹھنڈا رکھنے کے لئے ٹھیک ٹھاک انتظامات کردیئے۔ یعنی ایک درخت کے نیچے پانی کے کئی مٹکوں سے چھڑکا کیا گیا اس کے بعد چارپائی پھر چارپائی کے اوپر نرم بستر اور پھر مجھے لٹا دیا گیا اور ایک پنکھا جو کہ کھجوروں کے پتوں سے بنا ہوا تھا اس سے مجھے ٹھنڈی ہوا پہنچانے کا خصوصی طور پر بندوبست کیا گیا۔ میری تو ایسے ماحول میں آنکھ لگ گئی لیکن میری ماں نے اس وقت تک یہ مشقت جاری رکھی جب تک دن کا ایک نہیں بجا اور پھر ہوا لو میں بدل گئی اور باہر شدت گرمی کی وجہ سے کوے کی آنکھ نکل رہی تھی۔ ان حالات میں تو میری بھی آنکھ کھل گئی۔ مجھے پیاس لگ چکی تھی اور پانی کی شدید طلب۔ طلب اور رسد کا اصول یاد آگیا لیکن پانی مٹکوں میں اور مٹکے گھڑونجی کے اوپر اور یوں پانی سب روزہ داروں کے قلب ونظر میں اور سب روزہ دار بھائیوں کی ایک دوسرے پر نظر۔ آنکھ چرانے کے سارے راستے بند۔ میرا تو روزے کی وجہ سے برا حال ہوگیا اور میں نے سوچا کہ لوٹے میں پانی لے کر غسل خانے میں جاتے ہیں اور وہاں آرام سے بیٹھ کر ایک گھونٹ پانی پی کر پیاس کی شدت کو کم کر لیتے ہیں۔ اس سوچ کے عین مطابق میں واش روم ان ناپاک عزائم کی تکمیل کے لئے داخل ہوا ہی تھا کہ سوچ نے یوٹرن لیا اور ذہن میں آیا کہ اللہ میاں تو دیکھ رہے ہیں اور اس روزے کو اللہ کے لئے ہی تو رکھا ہے ۔ اللہ سائیں ہی اس کا اجر دیتے ہیں۔ ایسی بھیانک حرکت پر میں اپنا منہ کالا کروں گا اور خدا تو کیا کسی کو بھی اپنا منہ دکھانے کے قابل نہیں رہوں گا۔ بیڑہ غرق اور لینے کے دینے پڑ جائینگے۔ لگتا ہے رحمان شیطان پر پوری طرح غالب آگیا اور میں نے پانی پینے کاارادہ ترک کردیا اور سوچا ہمت مرداں مدد خدا۔ پھر تو جنون اور بس جنوں۔ جو ہوگا دیکھا جائیگا پھر کچھ بھی نہ ہوا اور سورج آخری لمحوں پر اور ہمارے سامنے ماں نے کئی مزیدار کھانے کی چیزیں تیار کرکے رکھ دیں۔ جی چاہتا تھا اچک کر ایک ایک چیز کو پیٹ میں بھر لوں لیکن انتظار تھا سورج کے غروب ہونے کا اور انتظار کی آخری گھڑیاں۔ اف اللہ کیا بتاوں۔ کچھ نہ ہی پوچھو۔ کان اذان سننے کے منتظر۔ اذان بھی موذن نے سپیکر کے بغیر دینی تھی اور پھر مولوی صاحب کا بھی روزہ۔ روزے میں تو بولنے کو بھی جی نہیں چاہتا ہے تو یہ آواز کیسے سنائی دے گی۔ ضرور سنائی دے گی ماں نے تسلی دی یوں ماں کی محنت شاقہ کی بدولت ہمارا روزہ تمام ہوا اور انتظار کی گھڑیاں ختم ہوگئیں۔ کھایا خوب کھایا پھر تو مزہ ہی آگیا اور اس حد تک کھانے پینے کا مزہ آیا کہ ہم نے آئندہ کے دنوں میں روزے رکھنے سے توبہ کرلی اور آئندہ چند سالوں بعد سارے روزے رکھنے کا مصمصم ارادہ کیا۔ ماں کو بھی ہم پیلے پیلے دکھائی دینے لگے بلکہ آئینے کے سامنے تو اپنے آپ کو نیلے پیلے نظر آنے لگے اور میں اس پر اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔ آئینہ نازک بہت ہے لیکن یہ کمبخت جھوٹ نہیں بولتا دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردیتا ہے اف اللہ ہم تو ایک دن بھوکے رہ کر ماں باپ کو کمزور کمزور لگنے لگے ہیں۔ جن کے بچے غربت اور افلاس کی وجہ سے روز ہی بھوکے پیاسے رہتے ہیں ان پر کیا گزرتی ہوگی۔ یہی تو روزہ رکھنے کا فلسفہ ہے کہ متمول طبقہ اور ان کے بچوں کو سال میں کم از کم ایک مہینہ تو احساس ہو کہ ان جیسے گوشت پوست کے بنے ہوئے غریب اور نادار لوگوں پر کیا گزرتی ہے جب ان کے بچے شدید بھوک میں ادھر ادھر دیکھتے ہیں اور مالدار طبقہ ان کو ایک ٹک روٹی کا بھی دینے کے لئے تیار نہیں ہوتا ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ روزہ احساس آدمیت ہے اور روزہ ہمیں اس بات کا شعوری احساس دلاتا ہے کہ بھوکا پیاسا رہنا کتنا مشکل کام ہے اور ہم پر کیا کیا فرائض لاگو ہوتے ہیں۔ ویسے بھی اسلام میں عبادات اور معاملات لازم وملزوم ہیں۔ عبادات بنیادی طور پر تربیتی پروگرام ہیں تاکہ ہم معاملات کی اہمیت کو سمجھیں اور معاملات کو احسن طریقے سے ادا کرنے کے قابل ہو جائیں تاکہ دنیا میں اخوت محبت اور بھائی چارے کی فضا قائم ہو سکے اور انسان انسان کے بارے نہ صرف متفکر ہو بلکہ اس کی فلاح و بہبود کے لئے عملی اقدامات کرے۔ اب کے حالات بالکل ہی مختلف ہیں۔ آسائشیں اور سہولیات سبحان اللہ سبحان اللہ۔ سحریاں، افطاریاں اور انواع واقسام کے کھانے۔ آئیے عہد کرتے ہیں بلا رنگ ونسل سب مل کر روزہ رکھیں گے اور پھر ایک ہی میز پر بیٹھ کر روزہ افطار کرکے مواخات کی عملی شکل پیش کرینگے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں