64

ریاست کی رٹ ہر صورت برقرار رکھی جائے (اداریہ)

ملک میں ایک بار پھر دہشت گردوں کی سرگرمیوں میں اچانک اضافہ ہو گیا ہے افغان سرزمین پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال کی جا رہی ہے کالعدم ٹی ٹی پی سکیورٹی فورسز اور شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہے جبکہ پاکستان کے دشمنوں کے ہاتھ میں بعض تنظیمیں بھی کھلونا بنی ہوئی ہیں اور دہشت گردوں کی سہولت کار بن کر ملک کو نقصان پہنچا رہی ہیں دہشت گردی کی لہر پر قابو پانے کیلئے سکیورٹی فورسز ملک بھر میں کارروائیاں کر رہی ہیں اور دہشت گردوں کے حملے ناکام بنا رہی ہیں جبکہ ملک کی خاطر اپنی جانوں کی قربانیاں بھی دے رہی ہیں دہشت گرد گروہوں اور تنظیموں کی کارروائیوں کے باعث پاکستان کو معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور بین الاقوامی سطح پر سرمایہ کاروں کو یہ پیغام مل رہا ہے کہ پاکستان سرمایہ کاری کیلئے محفوظ ملک نہیں فورسز دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے کارروائیاں کر رہی ہیں اس سلسلے میں فورسز کو قوم کے بھرپور تعاون کی ضرورت ہے اس لئے ہمیں اپنے تمام اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی بہادر افواج کا ہر طرح سے ساتھ دینا چاہیے تاکہ دہشت گردی کے عفریت پر قابو پا کر ملکی ترقی کی راہ ہموار کی جا سکے حکومت ریاست کی رٹ قائم رکھنے کیلئے اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک اس کے خلاف جنگ جاری رہے گی انہوں نے کہا کہ پاک فوج کے افسروں وجوانوں کی دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں قوم اپنی افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ شانہ بشانہ ہے افواج پاکستان کے ساتھ ساتھ سی ٹی ڈی بھی پنجاب کے مختلف شہروں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کر رہی ہے جس میں اسے کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں 475 آپریشنز کے دوران 33 دہشت گرد تحزیب کار حراست میں لئے گئے ہیں سکیورٹی فورسز ملک کو ہر صورت دہشت گردوں سے پاک کرنا چاہتی ہے جس سے حکومتی عزم کا اظہار ہوتا ہے کہ حکومت ملک میں امن وامان یقینی بنانے کیلئے ریاستی رٹ کو ہر صورت برقرار رکھنا چاہتی ہے جو خوش آئند ہے پوری قوم کی خواہش ہے کہ ریاست کی رٹ ہر صورت برقرار رکھی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں