ریلوے کوارٹر حادثہ میں باپ بیٹی کی شہادت پر اظہار غم

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) پاکستان ریلوے ایمپلائز پریم یونین سی بی اے کے چیئرمین محمد ضیا الدین انصاری، صدر شیخ محمد انور، سیکرٹری جنرل خیرمحمدتونیو، سینئر نا ئب صدر عبدالقیوم اعوان، چیف آرگنا ئزر خالد محمود چوہدری اور دیگر عہدیدار ا ن نے اپنے مشترکہ اخباری بیان میں گزشتہ دنوں لاہور ریلوے اسٹیشن کے قریب ریلوے کوارٹر کی چھت گرنے کی وجہ سے محمد الطاف پوائنٹس مین اور ان کی چار سالہ بیٹی کی شہادت پر انتہائی رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے افسران نے اپنی کوٹھیوں اور سیلونوں کو محل نما بنارکھا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان ریلوے میں اس وقت جو سب سے بڑا ستم ہورہاہے، وہ یہ ہے کہ ملازمین کی تنخواہوں سے 5% بیسک تنخواہ بطور ہائوس رینٹ تو باقاعدگی سے کاٹا جا رہا ہے، لیکن ان کے سر پر موجود چھتوں کی مرمت پر ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا جا رہا۔ موت ریلوے کی چھتوں سے برس رہی ہے۔ ریلوے کالونیوں کی حالت دن بہ دن بدترین ہو رہی ہے۔ کھڑکیاں، دروازے، بیت الخلا، نکاسی آب، بجلی کی وائرنگ اور خاص طور پرچھتیں مکمل طور پر بوسیدہ ہو چکی ہیں۔ لیکن نہ تو کوئی معائنہ ہوتا ہے، نہ کوئی مرمت، نہ کوئی شنوائی!انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ابھی تک ریلوے کی اعلی قیادت اس حادثے پر لواحقین سے افسوس کرنے نہیں پہنچی اور نہ ہی شہید ہونے والوں کے ورثا کیلئے کوئی مالی امداد کا اعلان کیاگیا ہے۔ یاد رہے محمد الطاف کے 9 بچے ہیں۔پاکستان ریلوے میں اس وقت جو سب سے بڑا ستم ہے، وہ یہ ہے کہ ملازمین کی تنخواہوں سے 5%بیسک تنخواہ بطور ہاس رینٹ تو باقاعدگی سے کاٹا جا رہا ہے، لیکن ان کے سر پر موجود چھت کی مرمت پر ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا جا رہا۔شیخ محمد انور نے کہا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، اس سے چند روز قبل بھی گارڈ رننگ روم کے قریب چھت گرنے سے دو شہادتیں ہوچکی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں