90

زراعت کا فروغ ترقی وخوشحالی کیلئے ناگزیر قرار (اداریہ)

پاکستان ایک زرعی ملک ہے مگر گزشتہ کئی برسوں سے زراعت کے شعبے کو نظرانداز کیا جاتا رہا ہے اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان جو کبھی زرعی اجناس گندم چاول دالیں کپاس اور دیگر فصلوں کی برآمدات سے بھاری زرمبادلہ حاصل کرتا تھا وہ کم ہوتا گیا صورت حال یہاں تک جا پہنچی کہ پاکستان کو اجناس کی درآمد کرنا پڑی اور تاحال یہ سلسلہ جاری ہے بڑی فصلوں کی پیداوار میں کمی سے زراعت کا شعبہ شدید متاثر ہوا گندم’ گنا’ کپاس چاول یہ ایسی فصلیں ہیں جو منافع بخش ہیں ان میں کمی زراعت کی تباہی کے مترادف ہے شعبہ زراعت کو نظرانداز کرنے کی بڑی وجہ سابقہ حکومتوں کی پالیسی قرار دی جا سکتی ہے منصوبہ بندی کا فقدان ان کسانوں کے مسائل سے لاتعلقی زرعی ماہرین سے بے اعتنائی اور دنیا میں رائج زرعی اقدامات سے انحراف اور زراعت سے مکمل لاعلم لوگوں کا بااختیار ہونا ہی زرعی شعبے کی تباہی کی وجہ بن رہا ہے بیج کھادیں مہنگی زرعی ادویات ڈیزل اور نہری پانی کی عدم دستیابی سے اس شعبے کو بہت نقصان پہنچایا ہے زرعی ماہرین متعدد بار حکومت کی توجہ اس جانب دلا چکے ہیں مگر اس شعبے کی جانب سے مسلسل نظر چرائی جا رہی ہیں کسانوں کو قرضے فراہم کرنے میں تاخیری حربے جعلی بیج جعلی کھادیں جعلی زرعی ادویات اور جدید زرعی مشینری کی عدم دستیابی نے کسانوں کو اس غیر منافع بخش کاروبار سے دور کر دیا ہے ایک زرعی ملک جو دالیں سبزیاں فروٹ چینی برآمد کرتا رہا ہے اب اس دوڑ سے باہر ہو چکا ہے جو لمحہ فکریہ ہے اگر ماضی میں اس شعبے کی تنزلی کا نوٹس لیا جاتا تو آج یہ دن نہ دیکھنے پڑتے زرعی پیداوار میں گراوٹ کی اور بھی کوئی وجوہات ہیں جو ماہرین زراعت رپورٹ کرتے رہے ہیں مگر ارباب اختیار نے اس مسئلے کا کوئی حل نہیں نکالا زرعی شعبہ کمزور ہو رہا ہے، موجودہ حکومت نے زرعی شعبہ کی ترقی کیلئے مؤثر اور پائیدار حل نکالنے پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے جس کے نتیجہ میں زرعی شعبہ کو ایک بار پھر عروج پر لانے کی کوشش کی جا رہی ہیں جو خوش آئند ہے حکومتی اقدامات کے نتیجہ میں آئندہ چند سالوں میں صورتحال بہتر ہو جائے گی کسانوں کی خوشحالی کیلئے پیکج دیئے جا رہے ہیں پاکستان کے دیرینہ دوست ملک چین نے پاکستان کے شعبہ زراعت کی ترقی کیلئے ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں چین کے تعاون سے سٹوڈنٹس کو زرعی شعبے کی ترقی اور پیداوار میں اضافہ سمیت جدید ترین مشینری کے استعمال اور معیاری بیج کھادیں زرعی ادویات کے حوالے سے تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔ شعبہ زراعت سے منسلک ہزاروں پاکستانی زرعی سائنس دانوں کو چین کے مختلف زرعی شعبوں میں تربیت فراہم کی جا رہی ہے وفاق نے زرعی گریجویٹس کیلئے چین مین تربیت سازی کے لیے 4ارب روپے مختص کئے ہیں حکومتی ذرائع کے مطابق پہلے مرحلے میں 300 زرعی گریجویٹس کا بیج چین بھیجا جا رہا ہے مزید 300 گریجویٹس کا بیج اسی ماہ چین پہنچ جائے گا زرعی گریجوایٹس کی تربیت سے پاکستان میں شعبہ زراعت کی ترقی میں بڑی مدد ملے گی۔ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ زراعت کا فروغ ملکی ترقی وخوشحالی کیلئے ناگزیر ہے کسان خوشحال ہو گا تو وہ فصلوں کی پیداوار میں اضافہ کیلئے مزید محنت کرے گا اور ملکی ترقی کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کرے گا ضرورت اس امر کی ہے کہ کسانوں کو معیاری بیج کھادوں کی فراہمی زرعی ادویات اور نہری پانی وافر مقدار میں فراہمی یقینی بنائی جائے اور پاکستان کو ایک بار اجناس سبزیاں فروٹ برآمد کرنے والا ملک بنایا جائے تاکہ زرعی شعبہ کی بدولت ملک کیلئے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں