زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرکے غریب کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے،صدرFCCIریحان نسیم بھراڑہ

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) زرعی معیشت کو جدید خطوط پر استوار کر کے نہ صرف دیہی غربت کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے بلکہ فوڈ سیکورٹی اور فوڈ پراسیسنگ انڈسٹری کو ترقی دے کر برآمدات میں بھی خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ بات فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر ریحان نسیم بھراڑہ نے25سے 27نومبر تک ایکسپو سنٹر کراچی میں ہونیوالے تیسرے بین الاقوامی فوڈ اینڈ ایگریکلچر ایگزی بیشن 2025کے بارے میں ایک آن لائن آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ جی ڈی پی میں زراعت کا حصہ 22.9فیصد سے 24فیصد جبکہ یہ سیکٹر روزگار کی فراہمی میں بھی 37.4فیصد کا حصہ ڈال رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گندم ، چاول، گنا، مکئی اور کپاس ہماری اہم فصلیں ہیں مگر اِن میں ویلیو ایڈیشن نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ اس کے برعکس ہم چائے، خوردنی تیل ، دالیں اور خوراک سے متعلقہ برانڈڈ پیک شدہ اشیاء بھی بڑی مقدار میں درآمد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کپاس کی وجہ سے ٹیکسٹائل کی صنعت نے ترقی کی ۔ اس طرح ہمیں دیگر اجناس کی ویلیو ایڈیشن ، پراسیسنگ اور پیکنگ پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کی طرف سے فوڈ ایچ کے نام سے ایگزی بیشن کے انعقاد کو سراہا اور کہا کہ اس کے ذریعے پاکستانی کسانوں اور سرمایہ کاروں کو اس شعبہ میں عالمی سطح پر ہونے والی ترقی سے آگاہی ملے گی اور اس کے نتیجہ میں پاکستان میں پیدا ہونے والی اجناس کی پراسیسنگ ، برانڈنگ اور برآمدات کی راہ بھی ہموار ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ فیصل آباد کے سرمایہ کاروں کو اس ایگزی بیشن میں بھر پور حصہ لینا چاہیے تاکہ یہ شہر ٹیکسٹائل کی طرح زرعی شعبہ میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس ایگزی بیشن میں سٹال لگانے والوں کو خالی جگہ ملے گی جبکہ وہ اپنی ضروریات کے مطابق اِس کی ڈیزاننگ کر ا سکیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں