زراعت کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنا ضروری ہے

فیصل آباد(سٹاف رپورٹر)فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے نائب صدر انجینئر عاصم منیر نے جامعہ زرعیہ اور چیمبر کے درمیان عملی رابطوں کے فروغ کیلئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی کو ایف سی سی آئی کے دورے کی دعوت دی ہے۔ وہ جامعہ زرعیہ اور انڈونیشیا کی یونیورسٹی کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخطوں کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ چیمبر کے صدر فارو ق یوسف شیخ انڈسٹری اکیڈیمیا رابطوں کو بڑھانا چاہتے ہیں تاکہ اس جامعہ میں ہونے والی تحقیق سے براہ راست صنعتوں اور خاص طور پر پروسیسڈ اور پیکڈ فوڈ کی صنعت کو پروان چڑھایا جا سکے۔انہوں نے اس سلسلہ میں دونوں ملکوں کے سفارتخانوں کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ باہمی تعاون کے فروغ سے تعلیم کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی کی بھی نئی راہیں کھلیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بنیادی طور پر زرعی ملک ہے مگر یہاں پیدا ہونے والی اجناس کی ویلیو ایڈیشن نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ اس شعبہ کو جدید خطوط پر ترقی دے کر ہم دیہی غربت کے خاتمے کے ساتھ ساتھ برآمدات میں بھی اضافہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ زرعی ملک ہونے کے باوجود ہم دالیں اور دیگر زرعی اجناس درآمد کر رہے ہیں جو ہمارے لئے چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کپاس کی پیداوار میں غیر معمولی کمی لمحہ فکریہ ہے کیونکہ ٹیکسٹائل کی برآمدات کیلئے کپاس کو بنیادی خام مال کی حیثیت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اعلیٰ معیار کی ٹیکسٹائل مصنوعات کیلئے نرم اور لمبے ریشے والی کپاس اندرون ملک ہی پیدا کرنی چاہیے۔ اسی طرح خوردنی تیل کی درآمد کو کم کرنے کیلئے بھی تیل دار فصلوں اور خاص طور پر زیتون کی کاشت کو بڑھانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دودھ کی پیداوار میں پاکستان کا چوتھا نمبر ہے مگر ہم اس سے اِس کے پوٹینشل سے بھی پورا فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ انہوں نے وائس چانسلر کو یقین دلایا کہ فیصل آباد کی بزنس کمیونٹی جامعہ زرعیہ سے ہر ممکن تعاون کرے گی تاکہ زراعت کے شعبہ کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے ۔ اس موقع پر چیمبر کے ایگزیکٹو ممبر محمد علی کے علاوہ جامعہ کے فیکلٹی ممبران بھی موجود تھے جبکہ اس تقریب میں دونوں ملکوں کے اعلیٰ سفارتی افسران نے بھی آن لائن شرکت کی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں