زرعی شعبے کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے جدید ٹیکنالوجی اپنا نا ہوگی

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) مقامی روایات سے مزین ایکسٹینشن سروسز کو نئے انداز میں متعارف کرانے سے ایکسٹینشن ورکرز اور کسانو ں کے درمیان اعتماد کی فضا قائم کی جا سکتی ہے جس سے جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں منعقدہ بین الاقوامی سیمیناربرائے ورثے کے ذریعے ایکسٹینشن سروسز میں بہتری سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیمینار کا اہتمام انسٹیٹیوٹ آف ایگری ایکسٹینشن، ایجوکیشن اینڈ رورل ڈویلپمنٹ نے کیا۔ اس موقع پر سری کے سائنسدان ڈاکٹر ایس ایم چنتھکا بندارا نے کہا کہ کسانوں کو ان کی وراثت سے دوبارہ جوڑ کر زرعی ایکسٹینشن سروسز کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مقامی طریقوں کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگ کرنے سے نچلی سطح پر پائیداری کو فروغ مل سکتا ہے۔ ڈائریکٹر ایگریکلچر ایکسٹینشن پروفیسر ڈاکٹر بابر شہباز نے کہا کہ ماضی کے علم کو نظرانداز کرنے کے بجائے محفوظ رکھا جائے اور اسے جدید سائنسی طریقہ کار کے ساتھ مربوط کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی روایات کو جدید آلات کے ساتھ یکجا کرنے سے روابط میں بہتری، سیکھنے کا عمل مضبوط اور پائیدار زرعی ترقی کو فروغ مل سکتا ہے۔ ڈاکٹر اعجاز اشرف نے کہا کہ وراثت صرف ماضی کا نام نہیں بلکہ مستقبل کے لیے رہنمائی بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایکسٹینشن نظام میں ثقافتی اقدار اور روایتی مسائل کے حل کے طریقوں کو شامل کرنا چاہیے، جس سے زرعی شعبے میں کارکردگی مزید مؤثر ہوگی۔ اس موقع پر جہانزیب طارق نے بھی خطاب کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں