سائبر کرائم مقدمات میں سزاؤں کی شرح نہ ہونے کے برابر

اسلام آباد (بیوروچیف) گزشتہ 5سال کے دوران سائبر کرائم کے مقدمات میں سزائوں کی شرح4فیصد سے کم رہی، پاکستان کے موبائل اور انٹرنیٹ صارفین کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ حکام کو ڈیجیٹل جرائم کی اطلاع دیتا ہے۔و زارت داخلہ کی جانب سے قومی اسمبلی میں جمع کرائے گئے تحریری جواب کے مطابق سال 2020سے اب تک سائبر کرائم کے الزامات میں 7ہزار 20ملزمان کو گرفتار کیا گیا، جن میں سے صرف222کو سزا سنائی گئی، یعنی سزا کی شرح صرف 3.16فیصد ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ کم سزا کی کئی وجوہات ہیں، جن میں صلاحیت کے مسائل سے لیکر سائبر کرائم قوانین اور تحقیقاتی ایجنسیوں کے بارے میں لوگوں میں وضاحت کا فقدان شامل ہے۔حکام تسلیم کرتے ہیں کہ اگرچہ 2020 کے بعد سے ہر سال سائبر کرائم کی شکایات میں اضافہ ہوا ہے، لیکن ان کی رپورٹنگ اب بھی جرائم کی اصل تعداد سے بہت کم ہے۔قومی اسمبلی میں جمع کرائے گئے اعداد و شمار کے مطابق 2020سے اب تک ایف آئی اے کے سائبر کرائم سیل میں 6لاکھ 39ہزار 564 شکایات دائر کی گئیں، جن میں سے 4 لاکھ 14 ہزار 260 کی تصدیق کی گئی، ان کے نتیجے میں 73 ہزار 825 انکوائریاں اور 5 ہزار713 مقدمات عدالتوں میں دائر کیے گئے۔اعداد و شمار کے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ 2020 میں گرفتار کیے گئے 625 لوگوں میں سے 20 کو مجرم قرار دیا گیا تھا، لگاتار 3 سال تک بڑھنے کے بعد 2024 میں شکایتوں کی تعداد میں کمی آئی، تاہم ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کے ترجمان کے مطابق یہ اعداد و شمار صرف 2024 کی پہلی تین سہ ماہیوں میں شکایات کی عکاسی کرتے ہیں۔پورے سال میں شکایات کی تعداد تقریبا ایک لاکھ 60 ہزار رہی۔ترجمان نے کہا کہ ملک میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد کے مقابلے میں شکایات کی تعداد اب بھی کافی کم ہے۔سائبر کرائم ونگ کے تخمینے کے مطابق 2024 میں شکایات کی تعداد 2 لاکھ سے تجاوز کرجانی چاہیے تھی۔پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں موبائل براڈ بینڈ صارفین کی تعداد 13 کروڑ 90 لاکھ سے زائد اور انٹرنیٹ صارفین کی تعداد 14 کروڑ 30 لاکھ ہے۔ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ میں کم مقدمات درج ہونے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وفاقی حکومت نے پولیس کو سائبر کرائم کے مقدمات درج کرنے کا اختیار بھی دے دیا ہے۔یہ اجازت دسمبر 2023 میں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) 2016 میں ترمیم کے ذریعے دی گئی تھی۔اس کا مقصد ملک بھر میں سائبر کرائم کی بڑھتی ہوئی لہر سے نمٹنا تھا۔اسلام آباد پولیس نے پہلے ہی ایک تھانے میں خواتین افسران سمیت مخصوص افسران کو تعینات کیا ہے، تاکہ ڈیجیٹل اسپیس میں جرائم سے متعلق شکایات درج کی جا سکیں۔پنجاب حکومت صوبے بھر کے مختلف تھانوں میں سائبر کرائم ڈیسک بھی قائم کر رہی ہے، سائبر کرائم سے متعلق شکایات کی کم تعداد کی ایک اور اہم وجہ تحقیقاتی ایجنسیوں میں بار بار تبدیلیاں تھیں۔وزارت داخلہ کے سینئر عہدیدار نے کہا کہ یہ تبدیلیاں عوام کو الجھن میں ڈالتی ہیں اور اس کے نتیجے میں شکایات کم ہوتی ہیں۔ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کو ڈیجیٹل کرائمز کی تحقیقات کا ٹاسک دیا گیا تھا، لیکن مئی 2024 میں وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن نے ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کی جگہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو خصوصی ایجنسی کے طور پر تشکیل دیا۔این سی سی آئی اے دسمبر 2024میں تحلیل ہونے اور دوبارہ ایف آئی اے کو تحقیقات کے اختیارات سونپنے سے پہلے بھی فعال نہیں ہوسکی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں