سابقVCزرعی یونیورسٹی کو سرکاری رہائشگاہ فوری خالی کرنیکا نوٹس

فیصل آباد (آن لائن) زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کی انتظامیہ نے سابق وائس چانسلر اقرار احمد خاں کو سرکاری رہائش گاہ وی سی ہائوس پرپریس کانفرنس کرنے سے منع کر دیا اور وی سی ہائوس کو فوری خالی کرنے کا نوٹس بھی دیدیا۔ یاد رہے کہ اس قبل گورنر پنجاب چانسلرزرعی یونیورسٹی فیصل آباد نے سابق وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی فیصل آباد ڈاکٹر اقرار احمد خاں کے ریٹائرمنٹ سے قبل یکے بعد دیگرے سلیکشن بورڈ اور سنڈیکیٹ اجلاس کرتے ہوئے خلاف ضابطہ یونیورسٹی میں پروفیسر زسمیت 228بھرتیاں کو غیرقانونی قرار دیتے ہو منسوخ کردیا تھا جبکہ سابق گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے سابق وائس چانسلر اقرار احمد کو اپنے بیٹے نہال احمد کو سکالرشپ کیلئے بیرون ملک بھجوانے،بھائی ڈاکٹر اظہار خاں اور دیگر رشتے داروں کو نوازنے سمیت اختیارات کا ناجائز، مبینہ کرپشن، اقربا پروری سمیت 608ملازمین کو بھرتی کرنے کے سنگین الزامات کیخلاف تحقیقات کرنے کا حکم دیا تھا ۔ آن لائن کے مطابق سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اقرار احمد خاں گذشتہ 15سال تک وائس چانسلر رہے ہیں ،زرعی یونیورسٹی کے قانون کے مطابق کسی بھی وائس چانسلر کو ریٹائرمنٹ کے بعد وی سی ہائوس کو ایک ہفتہ میں خالی کرنے ہوتا ہے مگرسابق وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی فیصل آباد ڈاکٹر اقرار احمد خاں ریٹائرمنٹ کے بعد تاہم وی سی ہائوس خالی نہیں کیا گذشتہ روز وی سی ہائوس میں ایک پریس کانفرنس کی میڈیا کو اطلاع دی جس پر یونیورسٹی کی انتظامیہ فوری نوٹس لیتے سابق وائس چانسلر کو پریس کانفرنس کرنے منع کردیا اور فوری وی سی ہائوس بھی خالی کرنے کا نوٹس دیدیا گیا۔ علاوہ ازیں سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اقرار احمد خاں کے خلاف اپنے بیٹے بھائی دیگر رشتے داروں کو نوازنے اورغیر قانونی بھرتیوں سمیت اختیارات کے اناجائز استعمال ،مبینہ کرپشن جیسے سنگین الزامات کی تحقیقات جاری ہے، زرعی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر اقرار احمد سے سرکاری رہائش گاہ سے قبضہ ختم کرایا جائے ۔اختیارات سے ناجائز استعمال اور مبینہ طور پر غیر قانونی بھرتیوں اور ترقیوں کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کرائی جائے تا حال ہی میں گورنر پنجاب /چانسلر یونیورسٹیز سلیم حیدرنے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے اپنی ریٹائرمنٹ سے تین ماہ قبل جولائی تا اکتوبر 2024 کے دوران اپنے منظور نظر پروفیسرز’ ایسوسی ایٹ پروفیسرز’ اسسٹنٹ پروفیسر اور دیگر کو نوازنے کیلئے یکے بعد دیگرے سلیکشن بورڈ کے 14اجلاس بلا کر اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے 606افراد کو بھرتی کیا گیا جن میں 103نئے اور 125یونیورسٹی میں کام کرنیوالے سمیت دیگر ملازمین شامل تھے اور انٹرویو کے خلاف من پسند افراد کو نوازنے کیلئے ٹیسٹ کے حاصل کردہ نمبرز میں ہیراپھیری کی گئی اور اہل امیدواروں کو نظرانداز کر دیا گیا۔ اکثر امیدواروں کے ٹیکنیکل’ تجربے کے اضافی نمبرز دیئے گئے اور تھرڈ پارٹی کی خدمات بھی حاصل نہ کی گئی جس پر گورنر پنجاب نے سلیکشن بورڈ اور سنڈیکیٹ اجلاس کے فیصلوں پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اور 608افراد کی بھرتیوں کو قوائد وضوابط کے خلاف قرار دیتے ہوئے مسترد کرد یا اور سنڈیکیٹ کمیٹی کو کہا گیا کہ وہ ایک ماہ کے اندر تمام معاملات کی مکمل چھان بین کرتے ہوئے جامع رپورٹ طلب کر لی اور مذکورہ نشستوں کو قانون کے مطابق تشہیر کر کے دوبارہ بھرتیاں کی جائیں۔ یاد رہے کہ سابق وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی ڈاکٹر اقرار احمد خاں کیخلاف مبینہ کرپشن، اقربا پروری سمیت دیگر الزامات کی تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں