54

سانحہ ضلع کرم’ ایسے واقعات پر قابو پانا ہو گا (اداریہ)

خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع کرم میں مسافر گاڑیوں پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جاں بحق افراد کی تعداد 44 سے بھی بڑھ گئی 30 سے زائد زخمی ہو گئے گزشتہ روز ضلع کرم میں پاراچنار سے پشاور جانے والی گاڑیوں پر اوچت کے مقام پر نامعلوم افراد نے اندھا دھند فائرنگ کی تھی ہسپتال ذرائع کے مطابق 44افراد کا نوائے میں شامل گاڑیوں میں جاں بحق ہوئے ان گاڑیوں کو پہاڑوں سے نشانہ بنایا گیا اور خود کار ہتھیاروں سے شدید فائرنگ کی گئی زخمیوں میں سے متعدد کی حالت تشویشناک ہے جسکے باعث ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے ڈپٹی کمشنر جاوید اﷲ محسود کے مطابق تقریباً 200 گاڑیوں پر مشتمل قافلہ پاراچنار سے پشاور جا رہا تھا اس پر تقریباً دس حملہ آوروں نے فائرنگ کی ایک مقامی اہلکار کے مطابق اس حملے میں جاں بحق ہونے والوں میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں اہلکار کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ قافلہ تقریباً 200 شیعہ مسلمانوں پر مشتمل تھا جو پولیس کی حفاظت میں سفر کر رہا تھا جس پر فائرنگ کی گئی، یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ کرم میں ہی جولائی میں زمینی تنازعہ سے منسلک جھڑپوں میں تقریباً 50افراد ہلاک ہوئے تھے جس کے باعث علاقے میں کشیدگی اور تشدد میں اضافہ ہوا اور گزشتہ ماہ بھی مسافر گاڑیوں پر حملہ کیا گیا جس کے بعد اس سڑک کو بند کر دیا گیا اور پھر اسے صرف ان لوگوں کیلئے کھولا گیا جو پولیس کی حفاظت میں سفر کر رہے ہوں اس تناظر میں تو گزشتہ روز کا واقعہ سکیورٹی کی مجموعی صورتحال پر سوالیہ نشان ہے کہ یہاں کے لوگ پولیس کی حفاظت میں بھی سفر کرتے ہوئے غیر محفوظ ہیں گزشتہ بدھ کے روز بھی اس علاقے کی ایک سکیورٹی چوکی پر خودکش حملہ ہوا تھا جس میں 12اہلکار شہید اور متعدد زخمی ہو گئے تھے،، ضلع کرم میں 44سے زائد افراد کے جاں بحق ہونے پر ملک میں سوگ کا سماں ہے ہر آنکھ نم ہے کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے ہیں شیعہ کمیونٹی نے واقعہ پر سخت احتجاج کیا اور اس کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اگرچہ کرم میں ہونے والا یہ افسوسناک واقعہ ملک میں جاری سفاکانہ دہشت گردی کا تسلسل ہی نظر آتا ہے تاہم بطور خاص اس واقعہ میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر مسافر بسوں کو ٹارگٹ کرنا خارج ازامکان قرار نہیں دیا جا سکتا پاراچنار میں فرقہ واریت کی بنیاد پر حملوں جھڑپوں اور ٹاگٹ کر کے قتل کرنے کا سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے ان کارروائیوں میں زیادہ تر شیعہ کمیونٹی کے لوگ نشانہ بنتے ہیں اس وقت بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں سکیورٹی اہلکاروں کو ٹارگٹ کرنے اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر خودکش حملوں اور دہشت گردی کی دوسری وارداتوں کا سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری ہے جس کے پس پردہ ہمارے ازلی دشمن بھارت کی سازشیں اور معاونت ہی کارفرما ہے ہمارا یہ مکار دشمن ملک کے اندر سے ہی اپنے آلہ کار عناصر کی خدمات حاصل کرتا ہے جن کے ایما پر دہشت گردوں کی فنڈنگ اور تربیت کی جاتی ہے اور پھر انہیں پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کے گھنائونے عزائم کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ کابل انتظامیہ کی پاکستان کے ساتھ خدا واسطے کے بیرکی پالیسی سے بھی بھارت کو پاکستان کے خلاف اپنے مقاصد کی تکمیل کی سہولت حاصل ہو رہی ہے جو افغان سرزمین پر دہشت گردوں کو تربیت دیکر پاکستان میں داخل کرتا ہے یہ صورتحال بھارت اور افغانستان دونوں کی جانب سے پاکستان کی سلامتی کو کھلم کھلا چیلنج کرنے کے مترادف ہے اسی تناظر میں ملک کی سیاسی اور عسکری قیادتوں نے قومی اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں ملک کو دہشت گردی کے ناسور سے مکمل نجات دلانے کا عزم باندھا اور بلوچستان میں فوجی آپریشن کا لائحہ عمل طے کیا اس اجلاس کا اعلامیہ جاری ہونے کے ساتھ ہی بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں یکے بعد دیگرے دہشت گردی کی وارداتوں کا ہونا دہشت گردی کے تدارک کے حکومتی عزم کو ناکام بنانے کی ہی کوشش نظر آتی ہے اس لئے دہشت گردی کے پس پردہ محرکات کا کھوج لگانے کے ساتھ ساتھ سکیورٹی اداروں میں موجود ان خامیوں پر قابو پانا بھی اشد ضروری ہے جن سے فائدہ اٹھا کر ملک کے بدخواہ عناصر کو دہشت گردی کے ذریعے اس ارض وطن کو خون میں نہلانے کا موقع مل رہا ہے، ضلع کرم میں ہونے والے واقعہ اور وہاں پر ہونے والے متحارب گروپوں کے خلاف مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے سکیورٹی فورسز کو بھی مزید چوکنا ہونے کی ضرورت ہے تاکہ ضلع کرم میں امن وامان یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ملک دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیلنے والے دوست نما دشمنوں کو سبق سکھایا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں