ساہیوال کے قبرستانوں میں گنجائش پوری،میت کی تدفین کیلئے مشکلات

ساہیوال (بیورو چیف) نواحی گاؤں کوٹ خادم علی شاہ 85/6R کے قبرستان اپنی گنجائش پوری کر چکا ہیں اور تدفین کے لیے مزید جگہ باقی نہیں رہی۔ اس صورتحال نے شہریوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔علاقہ مکینو ں کے مطابق، پرانے قبرستان مکمل طور پر بھر جانے کے باعث شہریوں کو اپنے عزیز و اقارب کی تد فین کے لیے دوسرے دیہات یا دور دراز مقاما ت پر جانا پڑ رہا ہے۔ اس وجہ سے نہ صرف عوامی پریشانی میں اضافہ ہوا ہے بلکہ تدفین کے وقت لواحقین کو سخت دشواریوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔اہلِ علاقہ کے بزرگ محمد ارشاد نے بتایا کہ:یہ قبرستان ہمار ے آباؤ اجداد کے زمانے سے قائم ہیں مگر اب ان میں کوئی جگہ باقی نہیں رہی ہم کئی بار انتظامیہ کو نئی جگہ دینے کی درخواست کر چکے ہیں مگر تاحال کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا مزید برآں، ساہیوال کی پچاس سے زائد غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی کالونیوں میں قبرستان نہ ہونا ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ان کالونیوں کی تعمیر کے دوران میونسپل کارپوریشن نے بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی نہیں بنایا، جس کے باعث اب شہریوں کو تدفین کے لیے گنجائش ختم ہو جانے جیسے سنگین مسئلے کا سامنا ہے۔ مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ میونسپل کارپوریشن کی یہ غفلت اور نااہلی ہے کہ نئی کالونیوں میں قبرستان مختص نہیں کیے گئے، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آبائی قبرستان مکمل طور پر بھر چکے ہیں اور نئی تدفین کے لیے جگہ دستیاب نہیں۔عوامی نمائندوں اور ضلعی انتظا میہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیشِ نظر فوری طور پر نیا قبرستان قائم کیا جائے یا موجودہ قبرستان کی حدود میں توسیع کی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں