ساہیوال (بیورو چیف)ہیوال میں قائم کیاگیا لینڈ ریکارڈ سنٹرجو کہ عوام کے لیئے سہولت اور جلد کام کروانے کے لئے متعارف کروایا گیا تھا لیکن بدقسمتی سے آج وہ کرپشن کا گڑھ بن چکا ہے اور کھلم کھلا اہلکار چوکے چھکے کھیل رہیں ہیں روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں روپوں کی کرپشن کا انکشا ف ہوا واضع کرتا چلو کہ گزشتہ ادوار سے لیکر تاحال اس کھیل میں خزانہ سرکار کو اربوں روپے کا نقصا ن ہوا اور ہوتا جارہا ہے اگر مکمل بلاک شدہ کھیوٹ کا آڈٹ کیا جائے تو تمام ترحقائق عوام کے سامنے ہونگے ضلعی انتظامیہ کی طرف سے بلاک شدہ کھیوٹ کے واضع احکامات کو ردی کی ٹوکری میں پھینکتے ہوئے لینڈ ریکارڈ سنٹر کے اہلکاروں نے اپنا قانون متعارف کروا رکھا ہے صرف طمع نفسانی کی خاطر بلاک شدہ کھیوٹ کو چند منٹوں کے لیئے کھول کر فردات جاری کردی جاتی ہیں اور لاکھوں روپے روزانہ وصول کیئے جاتے ہیں اور وہی جاری کی جانیوالی فرادات سے بہت کم فیسوں میں رجسٹری کروا دی جاتی ہے۔جس سے خزانہ سرکار کو روزانہ کی بنیاد پر کروڑوں روپے کا نقصان اور ان کی جیبوں کو فائدہ ہوتا ہے مخصوص سروے کے مطابق روزانہ درجنوں شہری اپنی اراضی کے متعلق چھو ٹے موٹے مسائل درست کروانے کیلئے آتے ہیں تو انہیں بجائے سہولت فراہم کرے بلکہ وہ سنٹر پر پہنچ کر مذید مسائل میں پھنس جاتے ہیں انہیں گھنٹوں انتظارکرنے کے بعد بھی ان کا کام نہیں کیا جاتا اور پھر سینٹر پر انہیں ٹائوٹ آملتے ہیں جو کاموں کیلئے مبینہ طور پر رقم کا کہتے ہیں جو ادا کردے اس کاکام منٹوں میں ہو جاتا اور سفارش والے کا کام بھی فوری طور پر کردیا جاتا ہے اگر وہ رشوت نہ دے تو ان کو چکر لگوائے جاتے ہیں یا پھر کئی قسم کے اعتراضات لگا دیئے جاتے ہے اور انہیں مجبورا رشوت دینے پر مجبور کرتے ہیں۔




