سرجھکا کر کام لگنے سے چیزیں خود بخود درست ہوجاتی ہیں،کوہلی

دبئی (سپورٹس نیوز) پاکستان کی میزبانی میں ہو رہی چیمپئینز ٹرافی 2025 کے سب سے زیادہ دیکھے گئے میچ میں پاکستانی بالرز کا سامنا کرتے ہوئے سینچری بنا کے ویرات کوہلی کی سٹارڈم وک چار چاند لگ گئے۔ اس میچ کا وننگ سٹروک اور کوہلی کی سینچری مکمل کرنے والا چوکا ان کے بیتنگ کیرئیر کا ایک یادگار لمحہ بن گیا۔دبئی سٹیڈیم مین پاکستان اور بھارت کے میچ کے بیسٹ پلئیر بھی کوہلی ہی قرار پائے۔ میچ ختم ہونے کے بعد میڈیا سے رسمی گفتگو کا موقع ملنے پر کوہلی نے کہا، خاص طور پر جب روہت آٹ ہو ئے تو میرا کام واضح ہو گیا تھا،مڈل اوورز کو کنٹرول کرنا، سپنرز کے خلاف خطرہ مول نہ لینا، اور پیسرز پر حملہ کرنا،میں نے جو طریقہ کار اپنایا،اس سے میں خوش تھا کیونکہ یہی میرا ون ڈے کھیلنے کا انداز ہے۔ ویرات کوہلی نے بتایا، مجھے اپنے کھیل کی سمجھ ہے،یہ باہر کے شور سے دور رہنے، اپنی توانائی اور خیالات کو سنبھالنے کا معاملہ ہے،ایسے میچوں کے دوران توقعات اور جنون میں کھنچ جانا میرے لیے آسان ہے،میں خود کو بار بار یاد دلاتا رہا کہ فیلڈنگ میں میں اپنی 100فیصد کوشش کروں گا،اسی لیے میں فیلڈنگ پر فخر محسوس کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جب آپ سر جھکا کر اپنے کام میں لگ جاتے ہیں، تو چیزیں خود بخود درست ہو جاتی ہیں،واضح سوچ اہم ہے۔ اپنے ساتھ دوسرے اینڈ پر موجود رہنے والے بیترز کے متعلق کومنٹ کرتے ہوئے کوہلی نے کہا، شبمن اور شریاس بہترین رہے ہیں،ان حالات میں سبھی کو اچھی پریکٹس ملی ہے، جو آنے والے میچوں کے لیے اچھی علامت ہے۔ اس رسمی گفتگو میں کوہلی نے یہ بھی یاد دلایا کہ اب وہ 36 کے ہو چکے ہیں اور انہیں سینئیر کی حیثیت سے ہی تریٹ کیا جانا چاہئے۔ کوہلی نے ہنستے ہوئے کہا، 36 سال کی عمر میں، ایک ہفتے کی چھٹی بہت اچھی چیز ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں