سردیوں میں احتیاطی تدابیر’ طرز زندگی میں معمولی تبدیلی ضروری

نیویارک( مانیٹرنگ ڈیسک )سرد ہواں اور کم درجہ حرارت کے ساتھ موسمِ سرما کی آمد جہاں خوشگوار احساسات لاتی ہے، وہیں صحت سے متعلق کئی چیلنجز بھی سامنے آتے ہیں۔سردیوں میں نزلہ، زکام، فلو اور جسمانی سستی عام ہو جاتی ہے، تاہم چند سادہ احتیاطی تدابیر اور طرزِ زندگی میں معمولی تبدیلیوں کے ذریعے اس موسم کو صحت مندی کے ساتھ گزارا جا سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق سردیوں میں متوازن غذا سب سے اہم کردار ادا کرتی ہے۔ روزمرہ خوراک میں پھل، سبزیاں، ثابت اناج، دالیں، انڈے، مچھلی اور صحت مند چکنائیاں شامل کرنا مدافعتی نظام کو مضبوط بناتا ہے۔ خاص طور پر وٹامن سی، وٹامن ڈی اور زنک سے بھرپور غذائیں جسم کو موسمی بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔اگرچہ سرد موسم میں پیاس کم محسوس ہوتی ہے، مگر جسم کو ہائیڈریٹ رکھنا اتنا ہی ضروری ہوتا ہے۔ مناسب مقدار میں پانی پینے کے ساتھ ساتھ گرم ہربل چائے، سوپ اور یخنی بھی سیال کی کمی پوری کرنے کے ساتھ جسم کو حرارت فراہم کرتی ہیں۔نیند کو ترجیح دینا بھی سردیوں میں صحت مند رہنے کے لیے نہایت اہم ہے۔ روزانہ سات سے نو گھنٹے کی پرسکون نیند نہ صرف توانائی بحال کرتی ہے بلکہ قوتِ مدافعت کو بھی بہتر بناتی ہے۔ سونے سے پہلے موبائل یا اسکرین کا استعمال کم کرنے سے نیند کے معیار میں اضافہ ہوتا ہے۔سردیوں میں جسمانی سرگرمیاں کم ہو جاتی ہیں، مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ باقاعدہ ورزش ترک نہیں کرنی چاہیے۔ گھر کے اندر یوگا، اسٹریچنگ، ہلکی ورزش یا رقص جیسی سرگرمیاں جسم کو متحرک رکھنے کے ساتھ موڈ بھی بہتر بناتی ہیں۔صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا سردیوں میں بیماریوں سے بچا کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ بار بار ہاتھ دھونا، سینیٹائزر کا استعمال اور چہرے کو غیر ضروری طور پر چھونے سے گریز جراثیم کے پھیلا کو روکنے میں مدد دیتا ہے۔مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ڈاکٹر کے مشورے سے وٹامن ڈی، سی یا زنک سپلیمنٹس بھی لیے جا سکتے ہیں، خاص طور پر ان دنوں میں جب دھوپ کم میسر ہو۔ اس کے ساتھ مناسب گرم لباس پہننا بھی ضروری ہے تاکہ جسم کو سردی کے مضر اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ماہرین ذہنی صحت کو بھی سردیوں میں اہم قرار دیتے ہیں۔ کم دھوپ اور مختصر دنوں کے باعث بعض افراد میں اداسی یا ڈپریشن کی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے۔ ایسے میں مراقبہ، گہری سانس کی مشقیں، مثبت سرگرمیاں اور اہلِ خانہ یا دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا ذہنی دبا کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔سماجی رابطے برقرار رکھنا بھی سردیوں میں تنہائی اور اداسی سے بچنے کا مثر ذریعہ ہے۔ چاہے ملاقات بالمشافہ ہو یا آن لائن، قریبی لوگوں سے رابطہ انسان کو جذباتی طور پر مضبوط رکھتا ہے۔ماہرین صحت فلو اور دیگر موسمی بیماریوں سے بچا کے لیے ویکسین لگوانے کا مشورہ بھی دیتے ہیں۔ ڈاکٹر سے مشاورت کے بعد ویکسینیشن نہ صرف خود کو بلکہ دوسروں کو بھی بیماریوں سے محفوظ رکھتی ہے۔سردیوں میں صحت مند رہنے کے فوائد نمایاں ہوتے ہیں۔ مضبوط قوتِ مدافعت، زیادہ توانائی، بہتر ذہنی سکون، اچھی نیند اور بیماریوں سے تیز صحتیابی ان میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ متوازن غذا اور باقاعدہ سرگرمی وزن میں اضافے اور موسمی چوٹوں کے خطرے کو بھی کم کرتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سردیوں میں صحت کا خیال رکھنا مجموعی معیارِ زندگی کو بہتر بناتا ہے۔ غذائیت، صفائی، ورزش اور ذہنی سکون پر توجہ دے کر نہ صرف بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے بلکہ موسمِ سرما کو بھرپور انداز میں انجوائے بھی کیا جا سکتا ہے۔ اگر کسی کو مخصوص طبی مسئلہ درپیش ہو تو ذاتی رہنمائی کے لیے معالج سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں