سروائیکل کینسر کی علامات اور علاج

اسلام آباد (بیوروچیف) پاکستان میں سروائیکل کینسر خواتین کی صحت کے لیے ایک سنگین مسئلہ ہے۔ چھاتی اور بیضہ دانی (اووری) کے کینسر (سرطان)کے بعد خواتین میں سروائیکل کینسر (رحم کے نچلے حصے کا سرطان)سب سے عام ہے۔یہ خواتین میں تیسرا سب سے عام کینسر ہے جب کہ 15 سے 44 سال کی خواتین میں دوسرا سب سے زیادہ پایا جانے والا کینسر ہے۔ ہر سال اوسطا 5008 خواتین میں سروائیکل کینسر کی تشخیص ہوتی ہے جن میں سے 3197 خواتین اس مرض کی وجہ سے انتقال کرجاتی ہیں۔سروائیکل کینسر کیا ہے اور کس وجہ سے لاحق ہوتا ہے، کیا اس کا علاج ممکن ہے، خواتین اس سے کیسے محفوظ رہ سکتی ہیں؟ اس حوالے سے معروف گائناکولوجسٹ اور عباسی شہید اسپتال میں شعبہ گائناکولوجی کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر شبنم شمیم عاصم سے کی گئی گفتگو قارئین کی نذر ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر شبنم شمیم عاصم نے بتایا کہ خواتین میں بچہ دانی یا رحم کا نچلا یا بیرونی حصہ سرویکس کہلاتا ہے۔ شادی شدہ خواتین میں جنسی عمل کے دوران یہ حصہ شوہر کے مادہ منویہ کے ساتھ ربط میں آتا ہے۔ بچہ دانی کے اسی حصے میں ہونے والے کینسر کو سروائیکل کینسر کہتے ہیں۔ کینسر کی یہ قسم اس عمر میں بچیوں اور خواتین کو متاثر کرسکتی ہے جب وہ بلوغت کو پہنچتی ہیں، مگر جنسی طور پر فعال ہونے اور ماں بننے کے قابل ہونے پر یہ کینسر زیادہ عام ہوتا ہے۔ سر وائیکل کینسر بہ تدریج پھیلتا ہے اور اس کے مختلف مراحل (اسٹیج) ہوتے ہیں جیسے پری کینسر (قبل از سرطان)، پھر سی آئی این ون، سی آئی این ٹو وغیرہ۔ یہ کینسر بہت ہی غیرمحسوس طور پر بڑھتا چلا جاتا ہے اور عام طور پر جب اس کی تشخیص ہوتی ہے تو اس وقت تک تاخیر ہوچکی ہوتی ہے اور یہ پورے جسم میں پھیل چکا ہوتا ہے۔ یوں مریضہ کی زندگی اور صحت یابی کے لیے اس مرض کی ابتدائی مراحل میں تشخیص ناگزیر ہے۔ یہ مرض ایک وائرس کی وجہ سے لاحق ہوتا ہے، جسے ہیومن پیپیلوما وائرس (ایچ پی وی) کہا جاتا ہے۔ اس وائرس کی بھی کچھ اقسام (Strains) ہوتی ہیں جو اس کینسر کا سبب بنتی ہیں۔ ایچ پی وی وائرس کی انسانی جسم میں منتقلی کی دو تین اہم وجوہات ہیں۔ ان میں سب سے اہم مختلف افراد کے ساتھ جنسی تعلقات کا ہونا ہے۔ سروائیکل کینسر سے متاثر ہونے کے لیے ضروری نہیں کہ صرف عورت کے ایک سے زائد افراد کے ساتھ جنسی تعلقات ہوں، اگر اس کی شادی کسی ایسے شخص کے ساتھ ہوئی ہو جس کے دوسری خواتین کے ساتھ بھی جنسی تعلقات ہوں اور اگر ان میں سے کوئی خاتون ایچ پی وی سے متاثرہ ہو تو پھر وہ وائرس شوہر کے ذریعے بیوی میں منتقل ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ کم عمری کی شادی یعنی کم عمری میں جنسی تعلقات بھی لڑکیوں میں سروائیکل کینسر کا سبب بن سکتے ہیں۔ پھر جن لڑکیوں اور خواتین کا جسمانی مدافعتی نظام کم زور ہوتا ہے وہ دیگر امراض کی طرح سروائیکل کینسر کا بھی شکار ہوسکتی ہیں۔ خواتین میں اس کی پہلی علامت ماہواری کے مسائل ہوتے ہیں۔ قدرتی نظام کے تحت خواتین کو عمومی طور پر ایک ماہ کے بعد ماہواری آتی ہے مگر سروائیکل کینسر کا شکار خواتین میں اس قدرتی نظام میں بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے اور ایک ماہ مکمل ہونے سے قبل ہی، درمیانی ایام میں خون کا اخراج (بلیڈنگ) ہونے لگتا ہے، یا پھر شادی شدہ خواتین میں جنسی عمل کے دوران یا بعد بلیڈنگ ہوتی رہتی ہے۔ یہ خطرے کی علامت ہے، اور ایسی صورت میں فوری طور پر گائناکالوجسٹ سے رجوع کرنا چاہیے۔ اگرچہ بلیڈنگ کی اور بھی جوہات ہوسکتی ہیں مگر یہ سروائیکل کینسر کی اولین علامات میں بھی شامل ہے۔سروائیکل کینسر کی دیگر علامات میں ماہواری کے دوران بار بار خون کا رکنا اور جاری ہونا، ماہواری کے دوران بہت زیادہ مقدار میں خون کا آنا، اور ثانوی مراحل (ایڈوانسڈ اسٹیج) میں پیشاب بند ہونا، وزن میں کمی، پیٹ میں درد وغیرہ شامل ہیں۔اگر کوئی خاتون جنسی طور پر فعال نہیں ہے تو یہ ممکن ہے کہ سروائیکل کینسر کا شکار ہونے کے باوجود ابتدائی مرحلے (اسٹیج) میں اس کی کوئی علامات ظاہر نہ ہوں، چناں چہ سروائیکل کی تشخیص کے لیے ایک ٹیسٹ کرایا جاتا ہے جسے پیپ ٹیسٹ یا لیکوڈ بیسڈ سائیٹولوجی کہتے ہیں۔ یہ دونوں ٹیسٹ خواتین میں سروائیکل کینسر کی تشخیص کے لیے تجویز کیے جاتے ہیں۔انہیں اسکریننگ ٹیسٹ بھی کہہ سکتے ہیں۔ اگر خواتین تین سال یا عمر کے لحاظ سے تجویز کردہ وقفے سے یہ ٹیسٹ کراتی رہیں تو اولین علامات ظاہر ہوتے ہی ان ٹیسٹ کے ذریعے ان میں سروائیکل کینسر کی تشخیص ہوجائے گی۔ اور ابتدائی مرحلے ہی میں تشخیص ہوجانے کے بعد اس کا علاج بآسانی اور بہتر طور پر ہوجائے گا۔ بعد کے مراحل (اسٹیج) میں پہنچنے کے بعد یہ مرض جسم کے دیگر حصوں تک پھیل جاتا ہے، حتی کہ چوتھے مرحلے (اسٹیج فور) میں پھیپھڑوں اور دیگر اعضا میں جگہ بنا چکا ہوتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں