سرکاری اداروں میں شفافیت کیلئے نئی پالیسی متعارف

لاہور (بیورو چیف)حکومت پنجاب سرکاری اداروں میں شفافیت کیلئے پر عزم ہے۔ اسی سلسلہ میں سرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں کے فنڈز میں شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے نئی پالیسی متعارف کروا دی گئی ہے۔ اس حوالہ سے ہسپتالوں کے کمرشل اور پرسنل لیجر اکاؤنٹ (PLA) فنڈز کے استعمال سے متعلق پالیسی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیاہے۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد پنجاب کے ٹرشری کیئر اسپتالوں میں Commercial اور Personal Ledger Account (PLA) فنڈز کے استعمال کو معیاری، مؤثر، شفاف اور مریض دوست بنانا ہے۔ اس پالیسی کا مقصد غلط اخراجات، مالی وسائل کے ناکافی استعمال اور ضروری ادویات و میڈیکل ڈسپوزیبلز کی عدم دستیابی کے مسائل کو حل کرنا ہے۔ اس پالیسی کا مقصد ایمرجنسی سروسز اور اسپتالوں کی کارکردگی بہتر بنانا ہے۔ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ اسپتال یوزر چارجز، ڈائیگنوسٹک خدمات، پرائیویٹ وارڈ / کمرہ چارجز و دیگر ہسپتال خدمات کے ذریعے اپنی آمدن خود پیدا کرنے کے باوجود ضروری ادویات، میڈیکل اور سرجیکل ڈسپوزیبلز و دیگر اہم وسائل کی کمی ظاہر کرتے ہیں۔ ان قلتوں کے باعث اسپتالوں کو ادویات مقامی طور پر خریدنی پڑتی ہیں جس سے بجٹ پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔ کئی مواقع پر PLA فنڈز ایسے کاموں میں خرچ کئے گئے جو مریض کے علاج سے متعلق نہیں تھے جس سے ان فنڈز کے بنیادی مقصد میں خلل پڑا ہے۔ مسائل کے حل، شفافیت اور احتساب کے لیے ڈیپارٹمنٹ نے یہ پالیسی مرتب کی ہے۔ پالیسی کے تحت تمام ہسپتالوں کی وصولیاں مخصوص بینک اکاؤنٹس میں جمع ہوں گی۔ پالیسی کے تحت ادویات اور میڈیکل ڈسپوزیبلز پر خرچ کو ترجیح دے جائے گی۔ پالیسی کے تحت ایمرجنسی اور جان بچانے والی خدمات میں بہتری آئے گی۔ پالیسی کے تحت فنڈز کا فیصدی استعمال واضح کرنا، آڈٹ اور کوڈل کمپلائنس اور کارکردگی کے نتائج کی بنیاد پر نگرانی کو یقینی بنایا جائے گا۔ یہ پالیسی پنجاب کے تمام tertiary کیئر اسپتالوں اور اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ماتحت اداروں پر لاگو ہوگی۔ پی ایل اے اکاؤنٹ سے 60% ادویات اور ضروری میڈیکل و سرجیکل ڈسپوزیبلز کی خریداری یقینی بنائی جائے گی۔ باقی 40 فیصد فنڈز براہ راست مریضوں کی سہولت، انفراسٹرکچر اور علاج سے متعلق ہوں گے۔ ادویات اور ڈسپوزیبلز کی تمام مقامی خریداری PLA فنڈز سے ترجیحی بنیادوں پر شیڈول V کے مطابق ہوگی۔ فرنیچر، غیر کلینکل آلات، آئی ٹی اپ گریڈنگ صرف اس وقت ممکن ہوگی جب بنیادی ترجیحات پوری ہو چکی ہوں۔ پی ایل اے فنڈز گاڑیوں کی خریداری یا مریض کی دیکھ بھال سے غیر متعلقہ ناقابل استعمال ہوں گے۔ تمام اخراجات کوڈل، مالی اور پراکیورمنٹ قوانین کے مطابق متعلقہ اتھارٹی کی منظوری سے ہوں گے۔ اس پالیسی کے اجرا کے ساتھ پچھلے نوٹیفکیشنز اور لیٹرز مؤثر نہیں رہیں گے اور سابقہ شیئرنگ میکانزم فوری ختم تصور ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں