سرکاری سکولز کو فنڈز کی عدم فراہمی ،تعمیرتی منصوبے ٹھپ

ٹھیکریوالہ (نامہ نگار) سرکاری سکولز کو فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث جاری تعمیراتی منصو بے کھٹائی میں پڑ گئے، اساتذہ مقروض اور مزدور بے روزگار ہو گئے۔تفصیلات کے مطابق محکمہ ایجو کیشن کی جانب سے جن سرکاری سکولوں میں کمروں، چار دیواری، ٹائلٹس اور دیگر بنیادی سہولیات کا فقدان تھا وہاں ترقیاتی کاموں کیلئے جزوی فنڈز جاری کیے گئے۔ ان فنڈز کے اجرا کے بعد مختلف سکولوں میں تعمیراتی کاموں کا باقاعدہ آغاز کیا گیا اور مقامی سطح پر منتخب نمائندگان اور ٹکٹ ہولڈرز نے ان منصوبوں کا افتتاح بھی کیا۔ تاہم موصول ہونے والی رقم منصوبوں کی تکمیل کیلئے ناکافی ثابت ہوئی جس کے باعث متعدد سکولوں میں صرف آدھے آدھے کمرے یا ادھورے ڈھانچے ہی تیار ہو سکے۔ تعمیراتی عمل کو جاری رکھنے اور بچوں کو بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے جذبے کے تحت بعض اساتذہ نے ذاتی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی جیب سے اخراجات برداشت کرنا شروع کر دیے۔ اس دوران اینٹوں، سیمنٹ، ریت، بجری اور دیگر تعمیراتی سامان مقامی دکانداروں سے ادھار لیا گیا تاکہ کام رکے نہیں۔ تاہم فنڈز کی بروقت عدم فراہمی کے باعث تعمیراتی سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ ہو کر رہ گئی ہیں۔متاثرہ اساتذہ کا کہنا ہے کہ وہ دکانداروں اور ٹھیکیداروں کے مقروض ہو چکے ہیں جبکہ مسلسل تقاضوں کی وجہ سے شدید ذہنی دبا کا شکار ہیں۔ دوسری جانب مزدوروں کو ادائیگیاں نہ ہونے کے سبب وہ بھی کام چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں جس سے بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔ اس صورتحال کے باعث کئی گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، خصوصا رمضان المبارک کی آمد کے پیش نظر اساتذہ اور مزدور طبقہ شدید پریشانی میں مبتلا ہے۔علاقہ مکینوں اور متاثرہ اساتذہ نے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری سکولوں کے جاری تعمیراتی منصوبوں کیلئے فوری طور پر مکمل فنڈز جاری کیے جائیں تاکہ ادھورے منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچ سکیں، اساتذہ اور مزدوروں کو ریلیف ملے اور طلبہ کو بہتر تعلیمی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو نہ صرف تعلیمی نظام متاثر ہوگا بلکہ اساتذہ کا مورال بھی شدید متاثر ہو سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں