ٹھیکریوالہ (نامہ نگار) گورنمنٹ سکولوں کے اساتذہ کی بڑے پیمانے پر امتحانی ڈیوٹیوں کے باعث تدریسی نظام شدید متاثر ہو گیا، جس سے طلبہ کی تعلیم کا نقصان اور والدین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فیصل آباد کے زیرِ اہتمام جاری سالانہ امتحانات کے سلسلے میں گورنمنٹ سکولوں کے اساتذہ کی کثیر تعداد کو امتحانی ڈیوٹیوں پر تعینات کر دیا گیا ہے۔ اس صورتحال کے باعث متعدد سکولوں میں اساتذہ کی شدید کمی پیدا ہو گئی ہے۔ذرائع کے مطابق بیشتر سکول پہلے ہی اساتذہ کی کمی کا شکار تھے، تاہم موجودہ انتظامات نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ کئی کلاسز خالی رہنے لگی ہیں اور طلبہ تعلیمی سرگرمیوں سے محروم ہو کر وقت ضائع کرنے پر مجبور ہیں۔والدین نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو مالی مشکلات کے باوجود گورنمنٹ سکولوں میں تعلیم دلوا رہے ہیں، لیکن وہاں تعلیمی معیار دن بہ دن گرتا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کبھی امتحانی ڈیوٹیاں اساتذہ کو سکولوں سے دور کر دیتی ہیں اور کبھی دیگر وجوہات کی بنا پر تعلیمی عمل معطل ہو جاتا ہے۔والدین نے سوال اٹھایا کہ کیا غریب بچوں کو معیاری تعلیم حاصل کرنے کا حق حاصل نہیں؟ انہوں نے حکامِ بالا سے مطالبہ کیا کہ اساتذہ کی ڈیوٹیوں کے لیے متبادل انتظام کیا جائے تاکہ سکولوں میں تعلیمی سلسلہ متاثر نہ ہو۔والدین کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں لاکھوں تعلیم یافتہ نوجوان بے روزگار ہیں، اگر امتحانی ڈیوٹیوں میں ان کو شامل کیا جائے تو نہ صرف سکولوں کا تعلیمی نظام برقرار رہ سکتا ہے بلکہ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع بھی میسر آ سکتے ہیں۔




