سری نگر،احتجاجی دھرنا ناکام بنانے کیلئے سیاسی راہنماؤں کی نظر بندی

سرینگر(مانیٹرنگ ڈیسک)غیرقانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں انتظامیہ نے مودی حکومت کی تعلیم دشمن پالیسیوں کے خلاف طلبا ء کے احتجاجی دھرنے کو ناکام بنانے کیلئے سرینگر میں سخت پابندیاں عائد کردیں ، سیاسی رہنمائوں کو احتجاج کی قیادت سے روکنے کیلئے گھروں میں نظر بند کر دیا گیا ۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق انتظامیہ نے کشمیری سیاست دانوں آغا روح اللہ مہدی، عبدالوحید پرہ اور سابق میئر جنید عظیم متو کی رہائش گاہوں کے باہر پولیس اور پیراملٹری اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کر کے انہیں گھروں سے باہر آنے سے روک دیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر میں ان کے گھروں کے باہر بڑی تعداد میں بھارتی مسلح اہلکاردیکھے جاسکتے ہیں۔دریں اثناء بھارتی فورسز نے سال نوکی تقریبات سے قبل نام نہاد سیکورٹی اقدامات کی آڑ میںپورے جموں خطے میں تلاشی اور نگرانی کی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ بھارتی فوجی اورپیراملٹری اورپولیس اہلکار کنٹرول لائن، ورکنگ بائونڈری اور دیہی علاقوں میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں کررہے ہیں ۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ فورسز اہلکارگھروں پر چھاپے مارکرلوگوں کو ہراساں کر رہے ہیںجس سے خوف ودہشت کا ماحول پیدا ہوا ہے۔ضلع ڈوڈہ میںسوشل میڈیا تک رسائی کے لیے ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک(وی پی این) ایپلی کیشنز کا استعمال کرنے کے الزام میں دو شہریوں خالد ابرار اور محمد عرفان کو گرفتارکرکے ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ۔ یہ اقدام مقبوضہ علاقے میں مودی حکومت کی طرف سے شہری آبادی کے خلاف ڈیجیٹل کریک ڈائون کو مزیدسخت کرنے کی عکاسی کرتا ہے۔ حق معلومات کے سرگرم کارکن اور جموں و کشمیر پیپلز فورم کے سربراہ ایم ایم شجاع نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارتی شہروں میں موجود کشمیری طلباء اور محنت کش کشمیریوں کے تحفظ وسلامتی کو یقینی بنائے جنہیں ہندو توا ہندو توا تنظیموں کے کارکنوں کی طرف سے بڑے پیمانے پر ہراسانی اور مارپیٹ کی کارروائیوںکا سامنا ہے۔ نیشنل کانفرنس اور جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے بھی کشمیریوں کو ہندوتوا کے حملوں سے بچانے کے لیے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں