55

سستی بجلی پر آئی ایم ایف بات کرنے کیلئے آمادہ (اداریہ)

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بجلی سستی کرنے کے حوالے سے آئی ایم ایف بات چیت کیلئے تیار ہو گیا ہے’ نرخوں پر فنڈ کے نہ ماننے کا کھٹکا نہیں رہا گزشتہ روز وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میکرواقتصادی استحکام کے بعد شرح نمو میں اضافہ کی راہ پر گامزن ہو گیا ہے آئی ایم ایف کی ایم ڈی نے اچھے انداز میں معاملات کو آگے بڑھانے پر پاکستان کی اقتصادی ٹیم کی تعریف کی ہے ماحولیاتی فنڈ کے ایک ارب ڈالر کی پاکستانی درخواست پر آئی ایم ایف کا تکنیکی وفد اس ماہ کے آخر تک پاکستان کا دورہ کرے گا، ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافہ حکومت پر سمندر پار پاکستانیوں کے اعتماد کا عکاس ہے، وزیراعظم نے کہا سعودی عرب بہترین برادر اسلامی ملک اور بااعتماد دوست ہے پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری اور جغرافیائی سالمیت پر کبھی آنچ نہیں آنے دیگا،، وزیراعظم شہباز شریف کی آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر سے خوشگوار ملاقات اور ایم ڈی کا سستی بجلی پر بات کرنے کیلئے آمادگی کا اظہار خوش آئند ہے ملاقات میں آئی ایم ایف کی سربراہ نے کہا کہ ماضی گزر چکا اور اب صورتحال مختلف ہے انہوں نے پاکستان کی اقتصادی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا اس موقع پر آئی ایم ایف کی ایم ڈی نے ماضی کی باتوں کو دہرایا کہ اس وقت بہت سی منفی باتیں کی گئیں لیکن پاکستان نے بہتر کارکردگی دکھا کر منفی باتوں کا اثر مٹا ڈالا آئی ایم ایف کی سربراہ نے وزیر توانائی’ وزیر تجارت’ ڈپٹی وزیراعظم’ وزیر دفاع سمیت سب کی تعریف کی وزیراعظم نے آئی ایم ایف کی ایم ڈی کو بتایا کہ اب صنعتیں’ برآمدات اور معیشت تب ہی چلیں گی جب پیداواری قیمتیں کم ہوں گی، نمو تب ہی ہو گی جب ہمارا ڈیوٹی سٹرکچر اور توانائی کی قیمتیں کم ہوں گی’ روزگار اور پیداوار تب بڑھے گی جب ہم دنیا کے ممالک کا مقابلہ کر سکیں آئی ایم ایف کی سربراہ نے وزیراعظم کی بات سن کر سستی بجلی کے حوالے سے بات کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا، وزیراعظم نے ڈپٹی وزیراعظم کو ہدایت کی کہ وہ صوبوں کے ساتھ مل کر آئی ایم ایف کے پاس جائیں وہ بات کرنے کے لیے تیار ہیں،، وزیراعظم کی بہترین حکمت عملی سے سستی بجلی کا خواب حقیقت میں بدلنے والا ہے کیونکہ اب تو آئی ایم یف کی سربراہ نے بھی اس بارے بات کرنے کی حامی بھرلی ہے اب یہ چاروں صوبوں پر منحصر ہے کہ وہ اتفاق رائے سے آئی ایم ایف کے پاس جائیں اور اپنا موقف سامنے رکھیں کہ مہنگی بجلی کے باعث بہت سی مشکلات کا سامنا ہے اگر بجلی سستی ہو گی تو صنعتوں کی بحالی اور برآمدات میں اضافہ ممکن ہو گا پیداواری لاگت کم ہونے سے ہماری انڈسٹری برآمدات کو دوگنا کر سکتی ہے جس کے نتیجہ میں زرمبادلہ کے ذخائر بڑھیں گے معیشت مستحکم ہو گی اقتصادی صورتحال مزید بہتر ہو گی آئی ایم ایف پروگرام کے تحت حاصل شدہ قرضوں کی ادائیگی میں مدد ملے گی وزیراعظم شہباز شریف کا گیارہ ماہ کا دور حکومت مشکل ترین ادوار میں شمار ہوتا ہے کیونکہ ملک بے شمار بحرانوں میں گھرا تھا معیشت ڈانواڈول’ اقتصادی صورتحال ناقابل اعتبار برآمدات میں کمی صنعتوں کی جزوی بندش سمیت بہت سے ایسے مسائل ملک کو درپیش تھے جن سے نجات کا کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا تھا مگر وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی معاشی ٹیم کو متحرک کیا خود بھی مکتلف ممالک کے دورے کئے جن کی بدولت پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری پھر سے شروع ہوئی سعودی عرب متحدہ عرب امارات’ ایران’ ترکیہ’ چین نے پاکستان میں سرمایہ کاری کی چین پاکستان میں انڈسٹری لگانے کیلئے بھی منصوبہ بندی کر رہا ہے فیصل آباد کے قریب تحصیل چک جھمرہ میں فیڈمک میں ملکی وغیر ملکی سرمایہ کاروں نے صنعتیں لگائی ہیں سرمایہ کاری کیلئے پاکستان ایک محفوظ ملک ہے وزیراعظم شہباز شریف کی پالیسیوں کی بدولت بیشتر ممالک کے سرمایہ کاری پاکستان کا رُخ کر رہے ہیں اب جبکہ پاکستان بجلی سستی کرنے کی تیاریاں کر رہا ہے۔ تو غیر ملکی اور ملکی سرمایہ کاروں کیلئے یہ امید افزاء ہو گا کیونکہ پیداواری لاگت کم ہونے سے پاکستانی مصنوعات کی بیرون ملک مانگ میں یقینا اضافہ ہو گا جب برآمدات میں اضافہ ہو گا تو معیشت مضبوط اور ملکی ترقی ممکن ہو گی عوام خوشحال ہوں گے وزیراعظم کا یہ عزم ہے کہ پاکستان بہت جلد آئی ایم ایف سمیت دیگر عالمی مالیاتی اداروں سے چھٹکارا حاصل کر لے گا اگر عالمی مالیاتی اداروں سے پاکستان کی قرض لینے کے حوالے سے جان چھوٹ جائے تو پاکستان دنیا بھر میں ایک معتبر مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہو گا اور ملکی ترقی وخوشحالی کا دیرینہ خواب بھی پورا ہو سکے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں