48

سقوط ڈھاکہ اور سانحہ APS بھلائے نہیں جا سکتے… (اداریہ)

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سانحہ آرمی پبلک سکول کے دس برس مکمل ہونے پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ اس دلخراش سانحہ کو کبھی بھولیں گے نہ معصوم بچوں پر ظلم ڈھانے والے دہشت گردوں کو معاف کریں گے یہ ایک دل سوز واقعہ تھا جس کی یاد ایک دہائی سے ہمارے دلوں کو مضطرب کر رہی ہے 16دسمبر 2024ء کو بزدل’ بے رحم اور حیوانیت سے بھرپور دہشت گرد آرمی پبلک سکول پشاور کے احاطے میں گھس کر تباہی وبربادی کرتے ہوئے 144 معصوم جانوں کو ہم سے ہمیشہ کیلئے جدا کر گئے اس سانحے کو خواہ کتنا ہی وقت گزر جائے کم سن بچوں کی جدائی کے صدمے کو مٹا نہیں سکتا،، 16دسمبر کا دن ہمارے لئے تڑپا دینے والا دن ہے یہ دن قوم کو دو سانحات سے دوچار کر گیا پہلا سانحہ سقوط ڈھاکہ کی صورت میں پیش آیا دوسرا سانحہ 16دسمبر 2014 کو پشاور میں پیش آیا دونوں سانحات بھلائے نہیں جا سکتے سانحہ سقوط ڈھاکہ کو نصف صدی سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے مگر اس سانحے کی چبھن آج بھی ہمارے قلوب کو چھلنی کر رہی ہے ہمارے ازلی دشمن بھارت نے آزادی کے پہلے دن سے ہی ہمیں دل سے تسلیم نہیں کیا اور تقسیم کے وقت بھی ڈنڈی ماری اور پاکستان کی آزادی کے بعد اس کے خلاف سازشوں کے جال بنے جاتے رہے 1965ء میں بھارت نے پاکستان کی بین الاقوای سرحدوں کو بلڈوز کیا، اگرچہ بھارت یہ جنگ جیت نہ سکا لیکن اس جنگ نے پاکستان کو دفاعی طور پر کمزور کیا 65کی جنگ نے دراصل بھارت کو مشرقی پاکستان پر یلغار کرنے کے لیے اکسایا اس نے اپنی شکست کا بدلہ لینے کیلئے بنگالی آبادی کو پاکستان کے خلاف بھڑکایا، مُکتی باہنی بنا کر اسے کولکتہ کے دہشت گرد کیمپوں میں تربیت دی اور مشرقی پاکستان کی اکثریتی جماعت عوامی لیگ کے لوگوں کے ذہنوں میں اپنے ملک کے خلاف زہرآلود پراپیگنڈہ بھر دیا اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت نے سقوط ڈھاکہ کا کھلواڑ کیا بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی نے زہر بھرے لہجے میں اعلان کیا کہ ہم نے دوقومی نظریئے کو آج خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے مگر اندراگاندھی کی یہ بہت بڑی غلطی تھی، اس لئے کہ بھارت میں ہندوتوا کا جنم دو قومی نظریئے کیلئے مزید تقویت کا باعث بنا درحقیقت کشمیر کا مسئلہ دو قومی نظریئے کا منطقی نتیجہ ہے جسے بھارت کے لیے نگلنا بھی ناممکن اور اگلنا بھی مشکل ہو جکا ہے بھارت باہر سے جتنا مرضی خود کو مضبوط ظاہر کرے مگر اندر سے وہ خوفزدہ ہے سقوط ڈھاکہ جیسے سانحہ کے بعد ہمارے ازلی دشمن بھارت نے 16دسمبر 2014ء کو اے پی ایس پشاور میں منظم طریقہ سے واردات کی جس کی یاد آج بھی قوم کو خون کے آنسو رلاتی ہے جبکہ بھارت آج مقبوضہ کشمیر میں اور کنٹرول لائن پر پہلے سے بھی زیادہ دہشت وحشت کا بازار گرم کرتا نظر آتا ہے بھارت نے 5اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر کے اس پر شب خون مارنے کا نریندر مودی کا مقصد بھی درحقیقت پاکستان کی سلامتی پر اوچھا وار کرنے کی منصوبہ بندی کو عملی جامہ پہنانا تھا چنانچہ مقبوضہ وادی کو بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں محصور ہوئے آج 1960 روز گزر چکے ہیں اور اس کے خلاف دنیا بھر میں عالمی قیادت اور نمائندہ عالمی اداروں کی جانب سے ہونے والی مذمتوں اور علاقائی وعالمی امن کے حوالے سے تشویش کے اظہار پر بھی مودی سرکار ٹس سے مس نہیں ہوئی اور اپنے مکروہ عزائم کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ہمہ وقت مصروف رہتی ہے بھارتی سپریم کورٹ نے مودی سرکار کے 5اگست 2019ء کے اقدام کو جائز قرار دے کر اس کی ہٹ دھرمی کو مزید پختہ کر دیا ہے بھارتی سازشوں اور خطے میں اس کے توسیع پسندانہ عزائم سے آج پوری دنیا آگاہ ہے اور مودی سرکار کی جانب سے اپنے جنگی جنون کو عملی قابل میں ڈھالنا بھی بعید ازقیاس نہیں اس لئے آج سقوط ڈھاکہ اور سانحہ اے پی ایس کی کربناک یاد کو تازہ کرتے ہوئے ہمیں ملک کی سلامتی کے لیے زیادہ فکرمند ہونا ہے اس کے لیے قومی سیاسی’ انتظامی اور عسکری قیادت کا دفاع وطن کیلئے مکمل یکجہت ہونا اور اس ناطے سے دشمن کو سیسہ پلائی دیوار بننے کا ٹھوس پیغام دینا ضروری ہے ملک میں جاری سیاسی عدم اسحکام نہ صرف ریاست کو نقصان پہنچا رہا ہے بلکہ عوام کو بھی اس کی وجہ سے شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور افسوسناک امر یہ ہے کہ سیاسی قیادت کو اس کا احساس ہی نہیں ہے بدقسمتی سے آج پھر سے ہمیں انہی حالات کا سامنا ہے جو سانحہ مشرقی پاکستان کا سبب بنے تھے ایک طرف ملک دشمن قوتیں ہماری سلامتی کے درپے ہیں اور دوسری طرف ہمارے ناعاقبت نااندیش سیاستدان اس چنگاری کو ہوا دینے کی شعوری یا غیر شعوری کوششوں میں مگن ہے جو ملکی یکجہتی کو بھسم کر سکتی ہیں’ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ندرونی وبیرونی دشمنوں اور سازشوں سے ہوشیار اور چوکنا رہا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں