سموگ سنگین ماحولیاتی مسئلہ’ سدباب ناگزیر (اداریہ)

پاکستان موسمیاتی بحران کی زد میں ہے اس بحران نے صرف ماحول ہی نہیں بلکہ معاشرت’ معیشت اور صحت عامہ کے نظام کو بھی بُری طرح متاثر کیا ہے گزشتہ کئی برسوں سے اسموگ نے اپنے ڈیرے جما رکھے ہیں سموگ کوئی معمولی مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی موسمیاتی تبدیلیوں کی ایک واضح علامت ہے کبھی سیلاب’ کبھی خشک سالی’ کبھی غیر معمولی گرمی اور کبھی اسموگ’ یہ سب مظاہر بتاتے ہیں کہ پاکستان موسمیاتی بحرانوں میں گھرا ہے بدقسمتی سے مؤثر اقدامات نہ ہونے سے سموگ کا بحران دردسر بنتا جا رہا ہے موسم کی تبدیلی کے ساتھ ہی اسموگ نے کئی شہروں کو لپیٹ میں لے لیا ہے صبح وشام شہری علاقوں میں دھند کی ایک چادر سی چھا جاتی ہے جو سنگین خطرے کی علامت ہے اسموگ کے باعث’ سانس لینا دشوار’ آنکھوں میں جلن’ گلے میں خراش دل اور پھیپھڑوں کے امراض میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے سموگ کے کئی بنیادی اسباب ہیں جن میں سب سے زیادہ نمایاں فصلوں کی باقیات کو جلانا، بھٹہ خشت کا زگ زیگ اصول کے مطابق عمل نہ کرنا گاڑیوں کا دھواں ملوں کارخانوں کی چمنیوں سے زہریلے دھوئیں کا خارج ہونا شہری علاقوں میں قائم چھوٹی فیکٹریوں میں غیر معیاری فیول کا استعمال اسکی بڑی وجوہات میں شامل ہیں لاہور’ راولپنڈی’ فیصل آباد سمیت ملک کے بڑے شہروں میں روزانہ لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں کے دھوئیں سے پیدا ہونے والی زہریلی گیسیں فضا میں پھیلتی ہیں اور سموگ کا روپ دھار لیتی ہیں کاربن ڈائی آکسیجن جذب کرنے والی فیکٹریاں (درخت) کاٹے جا رہے ہیں اس کا بھی فضا پر بہت اثر ہو رہا ہے مختلف عوامل ملکر فضاء کو آلودہ کر رہے ہیں اور سنگین صورتحال اختیار کرتے جا رہے ہیں سردیوں میں درجہ حرارت گرنے سے ہوا میں نمی بڑھ جاتی ہے اور ہوا کی رفتار کم ہونے کے باعث آلودہ زرات زمین کے قریب ٹھہر جاتے ہیں جس سے سموگ کی شدت میں اضافہ ہو جاتا ہے ورلڈ ائرکوالٹی کے مطابق لاہور گزشتہ چند برسوں سے دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شامل رہا ہے اور بعض دنوں میں فضائی معیار (اے کیو آئی) 400 سے تجاوز کر جاتا ہے جو انسانی صحت کے لیے خطرناک ہے فیصل آباد میں بھی گزشتہ چند سالوں میں اسموگ نے بہت نقصان پہنچایا یہاں بھی متعدد امراض نے جنم لیا جن میں گلے’ سانس’ آنکھوں کی بیماریاں شامل ہیں بچوں اور بزرگوں میں سموگ سے پید اہونے والی بیماریاں جلد اثر کرتی ہیں، سموگ صرف صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک اقتصادی مسئلہ بھی ہے خراب ہوا کے باعث کام کے اوقات کم ہو جاتے ہیں پیداواری صلاحیت کم ہو جاتی ہے قدرتی روشنی میں کمی واقع ہو جاتی ہے ٹرانسپورٹ کی آمدورفت بھی متاثر ہوتی ہے ایک تحقیق کے مطابق ماحولیاتی آلودگی پاکستان کو ہر سال مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا تقریباً 6فی صد نقصان پہنچا رہی ہے مسلسل آلودگی نے لوگوں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کیا ہے شہری باہر نکلنے سے گریز کرتے ہیں الغرض اسموگ کے ہر شعبہ پر منفی اثرات پڑتے ہیں’ اس مسئلہ سے نمٹنے کیلئے ضروری ہے کہ حکومتی سطح پر عوام میں آگاہی پیدا کی جائے اور ماحولیاتی شعور بیدار کیا جائے فضائی معیار کی نگرانی کیلئے رئیل ٹائم مانیٹرنگ اسٹیشنز بڑھائے جائیں اگر ہم نے اب بھی کچھ نہ کیا تو آنے والی نسلوں کو سانس لینے کیلئے صاف ہوا بھی نصیب نہیں ہو گی…

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں