کیلیفورنیا (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا کی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سانتا باربرا کے محققین نے ایسی نئی ٹیکنالوجی تیار کرلی ہے جو سورج کی روشنی کو بجلی میں تبدیل کرنے کے بجائے حرارت کی شکل میں محفوظ کرتی ہے، جسے توانائی ذخیرہ کرنے کے شعبے میں اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔سائنسی جریدے سائنس میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق یہ نظام مالیکیولر سولر تھرمل سسٹم پر مبنی ہے، جس میں پائریمیڈون نامی مرکب استعمال کیا گیا ہے۔تحقیق کے مطابق سورج کی روشنی جذب کرنے پر یہ مالیکیول زیادہ توانائی والی حالت میں چلا جاتا ہے، بالکل ایسے جیسے دبایا ہوا اسپرنگ۔ یہ توانائی اس وقت تک محفوظ رہتی ہے جب تک حرارت یا کسی کیمیائی عمل کے ذریعے اسے دوبارہ اپنی اصل حالت میں نہ لایا جائے، جس کے دوران حرارت خارج ہوتی ہے۔مرکزی محقق ہان نگوین کے مطابق یہ ایک قابلِ دوبارہ استعمال نظام ہے جو بار بار توانائی ذخیرہ اور خارج کرسکتا ہے۔سائنسدانوں نے اس مالیکیول کو ڈی این اے کی ساخت سے متاثر ہوکر تیار کیا۔ یہ مرکب بالائے بنفشی روشنی کے زیر اثر اپنی ساخت تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے طویل عرصے تک توانائی محفوظ رکھنا ممکن ہوگیا ہے۔ اس تحقیق میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا لاس اینجلس کے ماہرین نے بھی مالیکیول کی پائیداری کا ماڈل تیار کرنے میں تعاون کیا۔تحقیق کے دوران اس مواد کی توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 1.6 میگا جول فی کلوگرام سے زیادہ ریکارڈ کی گئی، جو عام لیتھیئم آئن بیٹریوں کی اوسط 0.9 میگا جول فی کلوگرام صلاحیت سے زیادہ ہے۔تجربات میں محفوظ شدہ توانائی سے عام ماحول میں پانی کو ابالنے تک کی حرارت حاصل کی گئی، جس سے ثابت ہوا کہ یہ نظام عملی استعمال کے قابل حرارت فراہم کرسکتا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ مادہ پانی میں حل ہوسکتا ہے، جس کے باعث اسے دن کے وقت سولر کلیکٹرز میں گردش دے کر توانائی ذخیرہ اور بعد میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی آف گرڈ ہیٹنگ سسٹمز اور گھریلو پانی گرم کرنے کے نظام میں استعمال ہوسکتی ہے، جبکہ اس میں الگ بیٹری کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی کیونکہ یہی مادہ توانائی حاصل اور ذخیرہ دونوں کام انجام دیتا ہے۔اس تحقیق کو مور انوینٹر فیلوشپ پروگرام کے تحت مالی معاونت فراہم کی گئی، جو 2025 میں ہان نگوین کو سولر توانائی ذخیرہ کرنے کی نئی ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے دی گئی تھی۔



