سول ہسپتال میں خون کی ہولی کھیلنے والے ملزمان گرفتار نہ ہوسکے

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) آئی جی پنجاب کے نوٹس لینے کے باوجود ڈی ایچ کیو سول ہسپتال میں دو بھائیوں سمیت تین افراد کو قتل کرنے والے ملزمان پکڑے نہ جا سکے، سول لائن پولیس نے سول ہسپتال میں خون کی ہولی کھیلنے والے 6ملزمان طاہر اسلم’ انتظار عرف شاہد’ بلال’ ملازم حسین اور محمد گلفام کے خلاف قتل’ اقدام قتل’ دہشت گردی سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔ تفصیل کے کے مطابق 215 رب نیٹھری کے رہائشی جعفر علی نے بتایا کہ 5ستمبر 2025ء کو وہ’ بابر’ صابر پسران پرویز’ ندیم عباس’ عمار حیدر مقدمہ نمبری 789/25 بجرم 363/337 ت پ تھانہ کوتوالی کی تاریخ پیشی کیلئے ایڈیشنل سیشن جج اقبال ہرل کی عدالت میں آئے جہاں پر مخالف فریق سے جھگڑا ہو گیا تو ملزمان نے ان پر تشدد کیا تو وہ میڈیکولیگل لینے کے حصول کیلئے ڈی ایچ کیو الائیڈ ٹو ہسپتال آئے تو وہاں پر پارکنگ ایریا کے قریب ملزمان طاہر اسلم’ انتظار عرف شاہد’ بلال’ ملازم حسین اور گلفام’ علی احمد آتش اسلحہ سے لیس ہو کر تھڑا مار کر بیٹھے ہوئے تھے، جنہوں نے ہمیں دیکھتے ہی فائرنگ کر دی جس کی وجہ سے ہسپتال میں آئے مریضوں’ ڈاکٹرز اور عملہ میں بھگدڑ مچ گئی اور ہسپتال میں خوف وہراس پھیل گیا۔ گولیاں لگنے سے بابر’ صابر پسران پرویز’ مدعی جعفر علی’ افتخار اور ملزم فریق کا ملازم حسین بھی بری طرح زخمی ہو گئے۔ تاہم دو بھائی بابر اور صابر اور ملزم فریق کا ملازم حسین زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ مقدمہ قتل کی واردات کے بعد اعلیٰ افسران اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچی تھی۔ الائیڈ ٹو (سول ہسپتال) میں تہرے قتل کی واردات پر آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے نوٹس لیتے ہوئے قاتلوں کو فوری گرفتاری کا حکم دیا تھا تاہم تین روز گزرنے کے باوجود ضلعی پولیس قاتلوں کو گرفتار کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں