سکولوں میں مفت فراہم کی جانیوالی کتابیں بازاروں میں فروخت ہونے لگیں

جڑانوالہ(نامہ نگار)حکومت پنجاب کی سرکاری کتابیں بازاروں میں مبینہ طور پر فروخت ہونے کا انکشاف،وزیر اعلیٰ پنجاب اس گھنائونے دھندے میں ملوث ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرکے کیفر کردار تک پہنچائیں، عوامی سماجی حلقے۔ تفصیلات کے مطابق مریم نواز شریف صاحبہ اور وزیر تعلیم رانا سکندر حیات خاں کے ویژن کے مطابق محکمہ تعلیم میں میرٹ اور شفافیت کو اولین ترجیح دی جارہی ہے جس کے مطابق اب تک گزشتہ دو سالوں میں محکمہ تعلیم میں شاندار اقدامات کے ذریعے شرح خواندگی میں اضافہ اور معیار تعلیم بلند ہوا ہے۔ مگر افسوس ناک بات سامنے آئی ہے کہ محکمہ تعلیم کی طرف سے دی جانے والی سرکاری مفت کتابیں مبینہ طور پر سر عام بک ڈپووں پر دھڑلے( سے فروخت ہو رہی ہیں،جن کی پرائیویٹ پبلشرز کی بکس کے مطابق قیمت وصول کی جا رہی ہے ۔جن پر واضح طور پر ناٹ فار سیل لکھا ہوا ہے ۔جو کہ محکمہ تعلیم حکومت پنجاب اور ضلع فیصل آباد کیلئے بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں پچھلے سالوں کی غیر استعمال شدہ نئی کتب مارکیٹ میں کیسے آئیں ۔کیا وئیر ہائوس یا سرکاری سکولوں نے بوگس داخل بچوں کی ایکسٹرا بکس فروخت کی ہیں۔یا زیادہ ڈیمانڈ بھیج کر حکومت پنجاب محکمہ تعلیم سے اضافی بکس لے کر بازار میں فروخت کی ہیں۔ اگر ایسا بھی ہوا ہے تو کیا سرکاری کتاب پرائیویٹ ٹیکسٹ بک کی قیمت پر فروخت ہو سکتی ہے،ان تمام سوالوں کے جواب محکمہ تعلیم کے ذمہ داران کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے ۔کہ حکومت پنجاب کی کروڑوں روپے کی سرکاری کتابوں کو کیوں اضافی منگوایا گیا،عوامی سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف’ وزیر تعلیم رانا سکندر حیات خاں سیکرٹری ایجوکیشن پنجاب،ڈپٹی کمشنر فیصل آبادسی سی او ایجوکیشن فیصل آباد و متعلقہ اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس گھناونے دھندے میں ملوث زمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور کیفر کردار تک پہنچایا جائے تاکہ آئندہ کوئی وزیر اعلیٰ پنجاب کے ویژن کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش نہ کر سکے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں