سکولوں کے اساتذہ کی بڑی تعداد کی امتحانی ڈیوٹیوں میں تعیناتی سے تدریسی عمل متاثر

ٹھیکریوالہ (نامہ نگار) ہشتم جماعت کے امتحانات کے لیے اساتذہ کی بڑی تعداد کو امتحانی ڈیوٹیوں پر تعینات کرنے سے سرکاری سکولوں میں تدریسی نظام بری طرح متاثر ہو گا، متعدد سکولوں میں کلاسیں خالی رہیں گی جبکہ طلبہ کے تعلیمی نقصان پر والدین اور شہری حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق محکمہ تعلیم کی جانب سے آٹھویں جماعت کے امتحانات پیکٹا کے تحت لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے لیے مختلف مقامات پر امتحانی سنٹرز قائم کیے گئے ہیں۔ امتحانات کی نگرانی اور انتظامی امور کے لیے سرکاری سکولوں کے اساتذہ کو ڈیوٹیاں سونپی گئی ہیں، تاہم کئی سکولوں سے بیک وقت 6 سے 7 اساتذہ کو امتحانی مراکز پر تعینات کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق ایک ہی سکول سے اتنی بڑی تعداد میں اساتذہ کی غیر موجودگی کے باعث سکولوں میں تدریسی سرگرمیاں شدید متاثر ہونگی۔ متعدد کلاسیں اساتذہ سے خالی رہیں گی جبکہ باقی ماندہ اساتذہ کے لیے تمام کلاسوں کو سنبھالنا ممکن نہیں رہتا۔ اس صورتحال کے باعث بچوں کا قیمتی تعلیمی وقت ضائع ہو گا اور نصاب کی تکمیل بھی مشکل ہو جاتی ہیوالدین کا کہنا ہے کہ حکومت ایک طرف تعلیمی معیار بہتر بنانے اور طلبہ کے نتائج بہتر کرنے کے دعوے کرتی ہے جبکہ دوسری طرف سکولوں سے اساتذہ کو بڑی تعداد میں امتحانی ڈیوٹیوں پر بھیج کر خود ہی تدریسی نظام کو متاثر کر دیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب اساتذہ کلاس روم میں موجود ہی نہیں ہوں گے تو بچوں کی تعلیم کیسے جاری رہے گی۔تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ امتحانات کا انعقاد یقینا ایک اہم عمل ہے لیکن اس کے لیے مناسب منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔ ایک ہی سکول سے بیک وقت کئی اساتذہ کو ڈیوٹی پر بھیج دینا انتظامی نااہلی کی واضح مثال ہے۔ ماہرین تعلیم کے مطابق اگر اسی طرح بغیر منصوبہ بندی کے فیصلے کیے جاتے رہے تو اس کے منفی اثرات براہ راست طلبہ کے تعلیمی مستقبل پر مرتب ہوں گے۔والدین کا کہنا ہے کہ اکثر اوقات محکمہ تعلیم کی جانب سے احکامات جاری ہوتے ہی نچلی سطح پر موجود افسران بغیر کسی ٹھوس حکمت عملی کے ان پر عملدرآمد شروع کر دیتے ہیں جس کے نتیجے میں سکولوں کا تدریسی نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔ والدین نے مطالبہ کیا ہے کہ امتحانات کے دوران اساتذہ کی ڈیوٹی لگاتے وقت ایسا طریقہ کار اختیار کیا جانا چاہئیے جس سے سکولوں میں تدریسی عمل بھی متاثر نہ ہو اور طلبہ کا تعلیمی نقصان بھی نہ ہو۔والدین اور سماجی حلقوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ صورتحال کا فوری نوٹس لے کر اساتذہ کی ڈیوٹیوں کے نظام کو ازسرنو منظم کیا جائے تاکہ سکولوں میں تدریسی سرگرمیاں بلا تعطل جاری رہ سکیں اور طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں